38 total views, 1 views today

زمین سے 26 ہزار فٹ اوپرکی ہوا کا درجۂ حرارت بہت کم ہوتا ہے، تو دورانِ پرواز جب جہاز اس بلندی سے اوپر جاتے ہیں، تو ان کے نجن سے نکلنے اور نظر نہ آنے والا دھواں (جو کہ یقینا گیسز کا مجموعہ ہوتا ہے اور جس میں دوسرے گیسز کے بیچ پانی بھی اپنی گیسی حالت میں موجود ہوتا ہے) جیسے ہی ہوا میں آتا ہے، تو درجۂ حرارت کی کمی کے باعث وہ گیسز مائع میں تبدیل ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور یوں وہ دھواں پانی کے ذات اور برف کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے مل کر ایک پٹی کی شکل اختیار کرلیتے ہیں جو کہ ہمیں جہاز کے پیچھے لکیر کی صورت میں نظر آ رہی ہوتی ہے۔




تبصرہ کیجئے