’’بالائی سوات: تاریخ کے تناظر میں‘‘ وکیل خیرالحکیم حکیم زے صاحب کی پشتو کتاب کا اُردو ترجمہ ہے جو کئی سال قبل شائع ہوکر علمی، ادبی اور تحقیقی حلقوں میں شرفِ قبولیت حاصل کرچکی ہے۔ چوں کہ یہ کتاب اپنی نوعیت کے لحاظ سے نہایت اہم تھی، اور اس میں اس علاقے کا جس تاریخی اور تحقیقی زاویے سے نسلی، سماجی اور سیاسی جائزہ لیاگیا ہے، ضروری تھا کہ اسے اُردو داں طبقے تک بھی پہنچایا جائے، تا کہ یہ سوات کی تاریخ و تحقیق سے دلچسپی رکھنے والے عام قارئین کے ساتھ ساتھ محققوں اور طالب علموں کے لیے بھی ریفرنس کا کام دے سکے۔
زیرِنظر کتاب میں فاضل مصنف نے سوات کے بہت سے قدیم رسم و رواج، سیاسی و سماجی زندگی کی اقدار اور اس علاقے کی نسلی و لسانی زندگی کا مؤثر اور خوب صورت خا کہ کھینچا ہے۔ ان میں بہت سی معاشرتی اقدار اب قصہ ٔ پارینہ بن چکی ہیں، اور اب وہ ہمیں صرف تاریخ کے اوراق میں ہی نظر آتی ہیں، تاہم بہت سے رسوم و رواج جو اَب متروک ہوچکے ہیں، انھیں اس کتاب میں محفوظ کر لیا گیا ہے۔ اس کتاب میں سوات اور اہلِ سوات کی سماجی اور سیاسی زندگی کے حوالے سے بہت سی ایسی نئی باتیں موجود ہیں، جن سے ہماری نئی نسل آگاہ نہیں۔

خیر الحکیم حکیم زے کی کتاب "بالائی سوات: تاریخ کے تناظر میں” (فوٹو: فضل ربی راہی)

صاحبِ کتاب نے زندگی کے ہر موضوع پر قابل قدر طبع آزمائی کی ہے۔ غرض وہ کون سا موضوع ہے، جسے اس کتاب میں زیرِ بحث نہ لایا گیا ہو۔ تاریخ و جغرافیہ، غم و خوشی، شادی بیاہ، قبیلوی اور ارضیاتی تقسیم، شجرہ ہائے نسب، مختلف پیشے، مختلف تحریکیں، نسلی و لسانی تقسیم، پیدائش و فوتگی، رشتے ناتے، دوستی و دشمنی، میلے ٹھیلے، کھیل کود، تعمیرات و ذرائع رسد و رسائل، تعلیمی و طبی ادارے، مشہور شخصیات اور شعر و ادب کے علاوہ بھی بہت سے دیگر ایسے موضوعات اس کتاب میں موجود ہیں جن سے اس خطۂ زمین اور یہاں کے باسیوں کا تعلق ماضی میں رہا ہے، یا اب بھی ہے۔ گویا اس کتاب میں اس متعلقہ علاقے سے متعلق ہر طرح کی معلومات جمع کی گئی ہیں جو ایک نہایت مشکل لیکن اہم کام ہے، اور پھر اپنی رائے اور بعض تاریخی حقائق کی توثیق کے لیے مختلف کتابوں سے مستند تاریخی حوالہ جات کا اندراج، یہ سب کچھ اس کتاب کی تاریخی و تحقیقی اہمیت دو چند کرتا ہے۔
فاضل مصنف نے اس سے قبل پشتو میں قابلِ قدر علمی و ادبی خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی اُردو اور پشتو کی آٹھ کتابیں زیورِ طبع آراستہ ہوچکی ہیں اور کئی کتابیں زیرِ طبع ہیں۔
موجودہ کتاب ’’بالائی سوات: تاریخ کے تناظر میں‘‘ شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز (سوات مارکیٹ، جی ٹی روڈ مینگورہ) نے نہایت خوب صورت گیٹ اَپ کے ساتھ شائع کی ہے۔ یہ کتاب پشاور میں یونی ورسٹی بک ایجنسی خیبر بازار، اسلام آباد میں سعید بک بینک جناح سپر مارکیٹ، لاہور میں المیزان ناشران و تاجران کتب الکریم مارکیٹ اردو بازار، کراچی میں ویلکم بک پورٹ اور فضلی سنز بک سپر مارکیٹ اُردو بازار کے علاوہ ہر اچھے کتب فروش کے پاس دست یاب ہے۔
………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔