173 total views, 1 views today

کلرکہار سالٹ رینج میں سڑک بنانے کے لیے جس انداز میں پہاڑوں کا سینہ چاک کیا گیا، وہ پاکستانی انجینئرنگ کے میدان کا عجوبہ ہے۔ یہی پرسطح مرتفع کے ڈھلوان سے آہستہ آہستہ اُترتے ہیں۔ یہ اُترائی بڑی گاڑیوں کے ڈرائیورز کے لیے بڑی وبالِ جاں ہے۔ لوڈڈ ٹرکوں کے ڈرائیور ز اِس اُترائی میں جگہ جگہ سائیڈ پر کھڑے گاڑیوں کے بریکوں کا امتحان لیتے ہوئے، باافراط دیکھے جاسکتے ہیں۔ ماضی میں یہاں پر بڑے خوفناک حادثے ہوتے آئے ہیں، لیکن اب ’’ایکسٹرا آر ڈی نری‘‘ انتظامات کی وجہ سے حادثات کی شرح کافی حد تک کم ہو گئی ہے، ماشاء اللہ! اِس مخصوص رینج پر بسوں کی رفتار کو ٹائم اِن ٹائم آؤٹ میکینزم کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ڈرائیورحضرات مجبوراً ایک مخصوص سپیڈ کے پابند ہوگئے ہیں۔ اب تو کیمروں کی مدد سے سپیڈ کی سخت مانیٹرنگ ہوتی ہے۔ موٹر وے انتظامیہ کی جانب سے ہدایات اور وارننگ کے بے شمار سائن بورڈز لگائے گئے ہیں۔ جیسے ’’تھکاوٹ خطرناک ہے‘‘، ’’تھوڑا آرام کیجئے۔‘‘، ’’لین ڈسپلن کی پابندی کریں۔‘‘، ’’سپیڈ لمٹ چالیس کلومیٹر تک رکھیں۔‘‘، ’’اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھیں۔‘‘، ’’چھوٹے گیر میں چلیں۔‘‘، ’’بارش میں سپیڈ سے اجتناب کریں۔‘‘، ’’بریک فیل ہونے کی صورت میں ہنگامی چڑھائی چھڑیں۔‘‘
سڑک کے بائیں کنارے ٹریکٹرز کے رنگین ٹائرز بھی ٹانک دیے گئے ہیں، جو خوبصورت بھی لگتے ہیں اور حادثے کی صورت میں بڑے نقصان سے بھی بچاتے بھی ہیں۔ ٹوٹل کوئی دس پندرہ کلومیٹرز کی اُترائی ہے، لیکن یہ پورے سفر پر بھاری ہے۔کیا آپ نے کلر کہار کی جھیل دیکھی ہے؟ وہاں سید عبدالقادر جیلانی کے نواسوں سخی آہو باہو کے دربار و مزار مبارک دیکھے ہیں؟ اور یہاں کے مور خود کو اندھے کرکے کیا کیا ڈرامے بازیاں کرتے ہیں، آپ نے مذکورہ ڈراما بازی بھی دیکھی ہے؟ کسی خصوصی نشست میں اِس شہر کی سیر کروائیں گے آپ کو، ہمارا تو ویسے بھی یہ ڈیرہ ہے۔ اور عجب یہ ہے کہ یہاں کے لوگ اناج کو اناج کے ساتھ کھاتے ہیں یعنی گندم کی روٹی دال کے ساتھ کھاتے ہیں۔ یہ میں نہیں کہتا بابُر اپنی خودنوشت میں یہاں کا ذکر کرتے لکھتے ہیں ۔
ایک لحظہ کے لیے آس پاس دیکھیں، موٹر وے سے پنجاب کی وسیع دامنی کا بھرپور نظارہ کیا جاسکتا ہے، تمام اطراف میں ۔ گوروں نے پنجاب کو غلے کا گھر، ایویں نہیں کہا تھا۔ کاشت کاری کے میدان میں ’’کراپ زوننگ‘‘ کا تصور اب اپنے عروج پر ہے، یہاں جگہ جگہ پر۔ سرگودھا کا وسیع علاقہ ترشاوہ پھلوں کے باغات کا گھر بن گیاہے، جس کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ ہمارے آڑو کی طرح یہاں کے کینو کے بعض اقسام پر کیڑے مار ادویہ کے سپرے کا بھرمار کرنا ایک عام سا معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ کوالٹی کینو پیدا کرنا یہاں کے کاشت کاروں کا کام ہے، اور اُسے کھانا کام ہے کالوں گوروں کا اورعربوں کا اور اُن عجموں کا جن میں ہم جیسے لنڈورے شامل نہیں۔ بہترین کوالٹی کے کینو برآمد ہوتے ہیں شرق و غرب کواور بیچ میں جو دس نمبری دانے شمار و قطار سے رہ جائے، تو وہ ہم بیچاروں کو مال کے بدلے مال کے عوض اور سرگودھا کے ڈھوروں (مویشیوں ) کے مفت مصرف میں لانے کے لیے ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ اس سال پھل بھی بھرپور ہیں اور مارکیٹ بھی مستحکم ہے۔ دھان مونجی جیسی نقد آور فصل کو بھی ایک وسیع علاقے، بشمول کالاشکاکو، حافظ آباد، گوجرانوالہ، ڈسکہ اور سیالکوٹ تک، موسمِ خریف کے دوران میں اپنی پہچان آپ کروانے کے واسطے میدان میں کودنا پڑتا ہے۔گنا، سرگودھا وغیرہ کی گود میں بھی پلتا بڑھتا ہے، اور آس پاس کے علاقوں میں بھی۔ لاہور کے بیک گراؤنڈ میں واقع اوکاڑہ کے زمین داروں کے آلو کی فصل کے ساتھ یاری دوستی تب سے ہے ، دیپال پور اور پاک پتن کی نہروں نے یہاں کے کھیتوں کو پانی دے کرسیراب کرنا شروع کیا، جب سے ہے ۔ 1913ء سے حساب کرلیں، تو لگ بھگ کوئی سوا صدی کے مراسم کی رام کہانی ہے۔ پچھلے سال یہاں کی خواتین کے خدو خال کا نظارہ کرتے ہوئے اگر ہماری نظروں نے دھوکا نہ کھایا ہو، تو ہم نے فرض کیا تھا کہ یہاں کی بھاری بھر کم خواتین اپنے علاقائی آلو کی طرح موٹی اور آلو چپس کی طرح نمکین اور ذائقے سے بھرپور ہیں۔ یہ آلوؤں کی طرح ہر سالن میں جچتی ہیں (یعنی ہر روپ میں بھلی سجی لگتی ہیں) پھل دار پودوں کی نرسریز اور رنگ برنگے گلاب کے پھولوں کی پیداوار کا ریجن پتوکی ہے، یہاں کے پھول عرب ممالک تک کو پہنچ جاتے ہیں اور فی ایکڑ لاکھوں لاکھوں روپے کماتے ہیں لوگ، لیکن کاشتکار نہیں۔ گائے بھینسیں اور دودھ کی فراہمی کا ٹھیکا ساہیوال کے سر ہے، تو سابقہ لائل پور کے دیہی علاقے گندم اور سبزیوں کی پیداوار کے لیے نامی گرامی سمجھے جاتے ہیں۔ زرعی پیداوار کی بہتات کے باوجود یہاں کے کاشت کار رَج کے کھانے پینے کے خود توروادار نہیں، پھر بھی وہ اپنی محنت کا پھل دوسروں کو کھلاتے پلاتے ہیں۔ اُن کی اِس شان کو فیض احمد فیضؔ اپنی ایک نظم میں کس شان سے پروتے ہیں، زیادہ نہیں تو صرف ایک بند کو تو ملاحظہ فرمائیں۔:
اُٹھ اُتا نوں جٹّا، مردا کی جانے
بھولیا !تو جگ دا اَن داتاتیری باندی دھرتی ماتا
تو جگ دا پھالن ہار ، مردا کی جانے
(جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے