31 total views, 1 views today

’’پیترا‘‘ (ہندی، اسمِ مذکر) کا املا عام طور پر ’’پینترا‘‘ لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔
’’فرہنگِ آصفیہ‘‘، ’’نوراللغات‘‘ اور ’’علمی اُردو لغت (متوسط)‘‘ کے مطابق دُرست املا ’’پیترا‘‘ ہے جب کہ اس کے معنی ’’کُشتی یا پٹا کے داؤ کرتے وقت کا ٹھاٹھ‘‘، ’’پاؤں کا نشان‘‘، ’’کھوج‘‘، ’’سُراغ‘‘، ’’اثر‘‘ وغیرہ کے ہیں۔
رشید حسن خان اپنی کتاب ’’اُردو املا‘‘ (مطبوعہ ’’زُبیر بکس‘‘، سنہ اشاعت 2015ء) کے صفحہ نمبر 238 پر اس حوالے سے رقم کرتے ہیں: ’’ایک لفظ ہے: پیترا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ اس کو مع نونِ غنہ ’’پینترا‘‘ بھی لکھ دیتے ہیں۔ یہ درست نہیں۔‘‘
صاحبِ آصفیہ و نور دونوں نے ’’پیترا‘‘ کے ذیل میں محاورہ ’’پیترا بدلنا‘‘ بھی درج کیا ہے۔ نیز دونوں میں حضرتِ صباؔ کا یہ شعر بھی درج ملتا ہے:
یکساں رہا نہ ٹھاٹھ کسی کا جہان میں
کون آکے پیترے نہ یہاں پر بدل گیا
صاحبِ نور نے البتہ حضرتِ امیرؔ کے دو اشعار اور بھی درج کیے ہیں، جن میں سے ایک ذیل میں ملاحظہ ہو:
گلے کٹیں گے نہ یوں پیترے بدل کے چلو
چلے گی تیغ سرِ رہ ذرا سنبھل کے چلو