43 total views, 1 views today

’’ہِراس‘‘ (فارسی) کا املا عام طور پر ’’حِراس‘‘ لکھا جاتا ہے۔
املا پر بعد میں روشنی ڈالتے ہیں، اول اس کے جنس کا جائزہ لیتے ہیں۔ ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ کے مطابق یہ لفظ مونث جب کہ ’’جدید اُردو لغت‘‘ کے مطابق مذکر ہے۔ اس طرح ’’نوراللغات‘‘ اور ’’علمی اُردو لغت (متوسط)‘‘ کے مطابق اسے مذکر کے طور پر بھی استعمال میں لایا جاسکتا ہے اور مونث کے طور پر بھی۔ نوراللغات میں تو باقاعدہ طور پر یہ صراحت بھی درج ملتی ہے: ’’لکھنؤ میں مذکر، دہلی میں مونث۔‘‘
اس بحث کی روشنی میں بہتر یہی ہے کہ ’’ہِراس‘‘ کو مذکر اور مونث دونوں طرح استعمال میں لایا جائے۔
’’فرہنگِ عامرہ‘‘، فرہنگِ آصفیہ‘‘، ’’نوراللغات‘‘، ’’جدید اُردو لغت‘‘ اور ’’علمی اُردو لغت (متوسط)‘‘ کے مطابق دُرست املا ’’ہِراس‘‘ ہے نہ کہ ’’حِراس‘‘ جب کہ اس کے معنی ’’خوف‘‘، ’’ڈر‘‘، ’’دہشت‘‘ وغیرہ کے ہیں۔
ذکر شدہ مستند لغات کے باوجود مقبول نشریاتی اداروں جیسے بی بی سی (اُردو)، وائس آف جرمنی ’’ڈویچے ویلے‘‘ (DW) اور دیگر کی آن لائن اَپ لوڈ کی گئی رپورٹوں میں مرکب کے طور پر ’’خوف و حِراس‘‘ جا بہ جا مستعمل ملتا ہے۔ البتہ دُرست مرکب ’’خوف و ہِراس‘‘ ہے۔
صاحبِ آصفیہ نے ’’ہِراس‘‘ پر مہرِ تصدیق ثبت کرنے کی غرض سے حضرتِ داغؔ کا یہ شعر درج کیا ہے کہ
بنا دیا غمِ فرقت نے سنگ دل ایسا
کہ موت سے نہیں آتی کبھی ہِراس مجھے
حضرتِ داغؔ نے ’’ہِراس‘‘ کو مونث کے طور پر استعمال کیا ہے۔ یہ شعر صاحبِ نور نے بھی نمونے کے طور پر درج کیا ہے، ساتھ میں حضرتِ انیسؔ کا اک شعر بھی درج کیا ہے، جس میں شاعر نے ’’ہراس‘‘ کو مذکر کے طور پر استعمال کیا ہے۔ شعر ملاحظہ ہو:
رُخ پر ہِراس کچھ دمِ جنگ و جدل نہ تھا
تلوار چل رہی تھی پہ ابرو پہ بَل نہ تھا