42 total views, 2 views today

’’گِریباں‘‘ (فارسی، اسمِ مذکر) کا تلفظ عام طور پر ’’گَریباں‘‘ ادا کیا جاتا ہے۔
’’فرہنگِ آصفیہ‘‘، ’’نوراللغات‘‘، ’’علمی اُردو لغت‘‘ اور ’’جدید اُردو لغت‘‘ کے مطابق دُرست تلفظ ’’گِریباں‘‘ ہے جب کہ اس کے معنی ہیں: ’’پوشاک کا وہ حصہ جو گلے کے گرد رہتا ہے۔‘‘
نوراللغات میں تلفظ کے حوالہ سے یہ صراحت بھی درج ملتی ہے: ’’صحیح یائے مجہول (ے) سے اور فصیح یائے معروف (ی) سے۔‘‘
فرہنگِ آصفیہ کے مطابق ’’گِریباں‘‘ دو لفظوں گری یعنی گلو اور بان کلمۂ نسبت سے مل کر بنا ہے۔ جب کہ نوراللغات کے مطابق یہ ’’گرے یعنی گردن اور بان یعنی محافظ کا مرکب ہے۔‘‘
نوراللغات میں ’’گِریباں‘‘ کے ذیل میں حضرتِ شعورؔ کا یہ خوب صورت شعر بھی درج ملتا ہے:
جس طرح اس نے میرے خط کے اُڑائے پرزے
اے جنوں یوں نہ کرے چاک گِریباں کوئی




تبصرہ کیجئے