17 total views, 1 views today

عام طور پر ’’ناتا‘‘ (اسمِ مذکر) کی مغیرہ صورت کا املا ’’ناتے‘‘ کی بجائے ’’ناطے‘‘ رقم کیا جاتا ہے۔
فرہنگِ آصفیہ، نوراللغات اور علمی اُردو لغت کے مطابق دُرست املا ’’ناتا‘‘ ہے نہ کہ ’’ناطا‘‘ اور اس کے معنی ’’رشتہ‘‘، ’’قرابت‘‘، ’’رشتہ داری‘‘، ’’بھائی بندی‘‘ وغیرہ کے ہیں۔
اُردو علمی لغت میں صفت ’’ناتے داری‘‘ درج ہے نہ کہ ’’ناطے داری۔‘‘ اس طرح نوراللغات میں اقربا کے مفہوم میں ’’ناتے والے‘‘ بھی درج ہے۔
ایک نکتہ سمجھنے کی خاطر درج کیا جاتا ہے کہ ’’ناتا‘‘ دراصل ہندی کا لفظ ہے، اس لیے اس کی مغیرہ صورت ’’ناتے‘‘ ہونی چاہیے۔ اگر یہ عربی الاصل لفظ ہوتا، تو پھر اسے ’’ت‘‘ کی بجائے ’’ط‘‘ سے لکھا جاتا۔
نوراللغات میں ’’ناتا‘‘ کی تفصیل میں رندؔکا یہ خوب صورت شعر بھی درج ملتا ہے کہ
یگانے زندگی تک ہیں عزیز و اقربا اے رندؔ
لحد میں سوئے جب جاکر نہ رشتہ ہے نہ ناتا ہے




تبصرہ کیجئے