27 total views, 1 views today

لفظ ’’فُلاں‘‘ (اسمِ مذکر، بمعنی شخصِ فرضی یا شخصِ غیر معلوم) کا تلفظ عام طور پر ’’فَلاں‘‘ ادا کیا جاتا ہے۔
فرہنگِ آصفیہ اور نوراللغات دونوں کے مطابق دُرست تلفظ ’’فُلاں‘‘ ہے جب کہ اس کے معنی ’’شخصِ فرضی‘‘، ’’شخصِ غیر معلوم‘‘، ’’وہ آدمی‘‘، ’’شخصِ غائب کی طرف اشارہ‘‘ وغیرہ کے ہیں۔
نوراللغات میں ’’فُلاں‘‘ کی تفصیل میں ’’فُلانا‘‘ اور ’’فُلانی‘‘ بھی درج ہیں۔ ایسا فرہنگِ آصفیہ میں بھی درج ہے۔
نوراللغات ہی میں لفظ ’’فَلاں‘‘ (اسمِ مذکر) کے معنی ’’اندامِ نہانی‘‘ درج ہیں۔ البتہ فرہنگِ آصفیہ نے ’’فَلاں‘‘ کو مذکر اور مؤنث دونوں کے طور پر درج کیا ہے اور اس کے معنی ’’شرم گاہِ مرد و زن‘‘ درج ہیں۔
’’فُلاں‘‘ کے حوالہ سے رحمان فارس کا یہ شعر درج کرنے لائق ہے، ملاحظہ ہو:
مَیں کُڑھتا رہتا ہوں یہ سوچ کر کہ تیرے پاس
فُلاں بھی بیٹھا ہو شاید، فُلاں تو ہوگا ہی!




تبصرہ کیجئے