17 total views, 1 views today

’’بُحیرہ‘‘ کو عموماً ’’بَحیرہ‘‘ پڑھا جاتا ہے۔ مرکب کے طور پر ’’بحیرۂ عرب‘‘ سے تو تقریباً ہر اردو سمجھنے والا واقف ہوگا۔
پروفیسر ایم نذیر احمد تشنہؔ نے اپنی تالیف ’’نادراتِ اُردو ‘‘ میں اس کا تلفظ ’’بُحیرہ‘‘ رقم کیا ہے۔
فرہنگِ آصفیہ اور نوراللغات دونوں کے مطابق دُرست تلفظ ’’بُحیرہ‘‘ہے جب کہ اس کے معنی ’’تصغیرِ بَحر‘‘، ’’چھوٹا سا سمندر جو تقریباً چاروں طرف خشکی سے گھرا ہوتا ہے‘‘ اور ’’تری کا وہ بڑا حصہ جو بَحر سے چھوٹا ہوتا ہے‘‘ کے ہیں۔




تبصرہ کیجئے