26 total views, 1 views today

عموماً مرکب ’’نظرِ ثانی‘‘ کو ’’زیر‘‘ کے بغیر یعنی ’’نظر ثانی‘‘ لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔
فرہنگِ آصفیہ اور نوراللغات دونوں میں اسے ’’زیر‘‘ کے ساتھ (نظرِ ثانی) درج کیا گیا ہے جب کہ اس کے معنی ’’پرتال‘‘، ’’دوبارہ دیکھنا‘‘، ’’ترمیم‘‘، ’’تصحیح‘‘ وغیرہ کے ہیں۔
فرہنگِ آصفیہ میں محاورہ ’’نظرِ ثانی کرنا‘‘ بھی درج ہے۔
اس حوالہ سے جبار واصف کی غزل کا مطلع ملاحظہ ہو:
اے خدا! فاقہ کشوں پر مہربانی کیجیے
رزق کی تقسیم پر کچھ نظرِ ثانی کیجیے
(اگر مصرعۂ ثانی میں نظر کے نیچے سے ’’زیر‘‘ حذف کرلیا جائے، تو شعر کا وزن گر جائے گا)




تبصرہ کیجئے