42 total views, 1 views today

عموماً لفظ ’’تنازع‘‘ کا املا ’’تنازعہ‘‘ لکھا جاتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر فاروق چودھری اپنی تالیف ’’اُردو آموز‘‘ کے صفحہ نمبر 162 پر مذکورہ لفظ کا دُرست املا ’’تنازع‘‘ درج کرتے ہیں۔
فرہنگِ آصفیہ اور نوراللغات دونوں کے مطابق دُرست املا ’’تنازع‘‘ ہے جب کہ معنی ’’باہمی نزاع‘‘، ’’جھگڑا‘‘، ’’رنجش‘‘ وغیرہ کے ہیں۔
نوراللغات میں البتہ یہ صراحت کی گئی ہے کہ ’’عوام کی زبانوں پر تنازعہ ہے۔‘‘
نوراللغات میں ’’تنازع‘‘ کی تفصیل میں شعورؔ کا یہ شعر بھی درج ملتا ہے:
تمہارے ایک جلوے سے ہوئے شیر و شکر دونوں
تنازع مٹ گیا اے جانِ جاں شیخ و برہمن کا




تبصرہ کیجئے