65 total views, 1 views today

مرکب لفظ ’’خط و خال‘‘ کو عام طور پر ’’ خد و خال‘‘ لکھا جاتا ہے جس سے اجتناب ضروری ہے۔
رشید حسن خان اپنی کتاب ’’انشا اور تلفظ‘‘ کے صفحہ نمبر 46 پر اس حوالہ سے رقم کرتے ہیں: ’’خد‘‘ اور ’’خال‘‘ کے ایک ہی معنی ہیں یعنی ’’تل‘‘۔ اس کی جگہ ’’خط و خال‘‘ لکھنا چاہیے۔‘‘
اس حوالہ سے انورؔ مسعود کا ذیل میں دیا گیا شعر بھی ملاحظہ ہو:
وہاں زیرِ بحث آتے خط و خال و خوئے خوباں
غمِ عشق پر جو انورؔ کوئی سیمینار ہوتا




تبصرہ کیجئے