62 total views, 1 views today

لفظ ’’بُلبُلا‘‘ کو عام طور پر ’’بُلبُلہ‘‘ لکھا جاتا ہے۔
’’انشا اور تلفظ‘‘ از رشید حسن خان کے صفحہ نمبر 69 پر اس کا املا ’’بُلبُلا‘‘ درج ہے اور یہی دُرست ہے۔
فرہنگِ آصفیہ اور نوراللغات دونوں میں اس کا املا ’’بُلبُلا‘‘ ہی درج ہے۔ اس کے لفظی معنی ’’غوزہ آب‘‘، ’’حُباب‘‘ اور ’’پُھلّا‘‘ جب کہ مجازی معنی ’’ناپائیدار چیز‘‘ یا ’’جلد فنا ہونے والی چیز‘‘ کے ہیں۔
فرہنگِ آصفیہ اور نوراللغات دونوں میں ’’بُلبُلا‘‘ کی تفصیل میں یہ شعر بھی شاعر کے حوالہ کے بغیر درج ہے:
کیا بھروسا ہے زندگانی کا
آدمی بُلبُلا ہے پانی کا
دوسری طرف "rekhta.org” مذکورہ شعر کو مولوی عبدالرضا رضاؔ کا مانتے ہیں۔ نیز اس کی ترتیب کچھ یوں ہے:
آدمی بلبلہ ہے پانی کا
کیا بھروسا ہے زندگانی کا
شعر میں نہ صرف ترتیب کا مسئلہ ہے بلکہ ’’بُلبُلا‘‘ کا املا بھی غلط درج کیا گیا ہے۔ 




تبصرہ کیجئے