39 total views, 1 views today

عام طور پر ’’جَدوَل‘‘ کو ’’جَدُول‘‘ پڑھا جاتا ہے۔
رشید حسن خان کی تالیف ’’کلاسکی ادب کی فرہنگ‘‘ کے صفحہ نمبر 212 پر اس لفظ کا تلفظ ’’جَدوَل‘‘ رقم ملتا ہے جب کہ اس کے معنی ’’صفحے کا چاروں طرف کھنچی ہوئی لکیروں کا چوکھٹا‘‘، ’’وہ حاشیہ جو سنہرے رنگ یا سونے کے پانی سے کتابوں (یا قرآنِ پاک) کے صفحات کے چاروں طرف بنایا جاتا تھا‘‘، ’’نقشہ‘‘، ’’گوشوارہ‘‘ اور ’’فہرست‘‘ کے ہیں۔
فرہنگِ آصفیہ اور نور اللغات میں بھی اس کا تلفظ ’’جَدوَل‘‘ ہی درج ہے نہ کہ ’’جَدُول۔‘‘
نور اللغات میں حوالہ کے طور پر ناسخؔ کا یہ شعر بھی درج ملتا ہے:
جا بجا تعریف لکھی ہے خطِ رُخسار کی
چاہیے جَدوَل مرے دیوان کو زنگار کی




تبصرہ کیجئے