40 total views, 1 views today

رشید حسن خان کی کتاب ’’انشا اور تلفظ‘‘ کے صفحہ نمبر 66 پر لفظ ’’اَدوِیہ‘‘ کے معانی ’’دوا کی جمع‘‘ درج ہیں۔
یہی معنی مولوی نور الحسن نیر کے تالیف شدہ لغت ’’نور اللغات‘‘ میں الفاظ کے رد و بدل کے ساتھ کچھ اس طرح درج ہیں ’’جمع دوا کی۔‘‘ البتہ مولوی سید احمد دہلوی کے تالیف شدہ لغت ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ میں اس کے معنی ’’دوا کی جمع‘‘، ’’دوائیں‘‘، ’’اَوکھد‘‘ اور ’’دارُو‘‘ کے ہیں۔
نوٹ:۔ بیشتر اخبارات، ویب سائٹوں اور نشریاتی اداروں میں دوا کی جمع کے طور پر لفظ ’’اَدوِیات‘‘ استعمال کیا جاتا ہے، جو ذکر شدہ کتاب اور دونوں مستند لغات میں کہیں ہاتھ نہیں آیا۔ اس لفظ (ادویات) کا حوالہ جہانگیر اُردو لغت میں ’’دوا کی جمع الجمع‘‘ کے طور پر موجود ہے۔ اس لیے دوا کی جمع کے طور پر اگر لفظ ’’ادویہ‘‘ استعمال کیا جائے، تو زیادہ مناسب بات ہوگی، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔




تبصرہ کیجئے