688 total views, 1 views today

وکی پیڈیا کے مطابق 17 ستمبر1974ء کو ٹھیک 52 سال کی عمر میں استاد امانت علی خان کا انتقال ہوا۔
آپ پٹیالہ گھرانے کے مشہور کلاسیکل گلوکار تھے۔ 1922ء میں ہوشیار پور پنجاب میں پیدا ہوئے۔ اپنے بھائی فتح علی خان کے ساتھ جوڑی کی صورت میں مختلف محافل میں اپنے فن گائیکی کے جوہر دکھاتے رہے اور بعد ازاں ریڈیو پاکستان پر موسیقی کے پروگراموں میں بھی شریک ہونے لگے۔
استاد امانت علی خان نے غزل گائیکی کو اپنے منفرد اندازمیں پیش کرکے بہت جلد اپنے ہم عصرگلوکاروں، جن میں استاد مہدی حسن خان،استاد غلام علی اور اعجاز حضروی شامل ہیں، میں اپنا ایک الگ مقام اور شناخت بنائی۔ ’’موسم بدلا رُت گدرائی‘‘، ’’اہل جنون بے باک ہوئے‘‘، ’’ ہونٹو ں پہ کبھی ان کے میرا نام بھی آئے‘‘، ’’ انشا جی اٹھو اب کوچ کرو‘‘ اور پاکستان کامشہور ملی نغمہ ’’اے وطن پیارے وطن پاک وطن اے میرے پیارے وطن‘‘ بھی استاد امانت علی خان کا گایا ہوا ہے۔ ان کے ایسے بے شمار لازوال گیت اور غزلیں آج بھی شائقین موسیقی میں بے حد مقبول ہیں، جب کہ ان کے گائے ہوئے ملی نغمے اب بھی ان کے منفرد انداز گائیکی کے ساتھ وطن پرستی کا درس دیتے ہیں۔




تبصرہ کیجئے