926 total views, 2 views today

12 جنوری (1931ء) کو پاکستان کے مشہور شاعر احمد فرازؔ پیدا ہوئے۔
احمد فرازؔ کا اصل نام سید احمد شاہ تھا۔ انہوں نے اردو اور فارسی میں ایم اے کیا۔
مجموعہ ہائے کلام: تنہا تنہا، دردِ آشوب، شب خون، نایافت، میرے خواب ریزہ ریزہ، بے آواز گلی کوچوں میں، نابینا شہر میں آئینہ، پسِ اندازِ موسم، سب آوازیں میری ہیں، خوابِ گُل پریشاں ہے، بودلک، غزل بہانہ کروں، جاناں جاناں اور اے عشق جنوں پیشہ۔
آپ کی اب تک سب سے زیادہ سنی اور پسند کی جانے والی غزل ذیل میں درج کی جاتی ہے:
سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اُس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے، تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے، تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اُس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دن میں اُسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اُس کے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اُسے بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
سو ہم بھی معجزے اپنے ہُنر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہگ ہے چشمِ ناز اُس کی
سو ہم بھی اُس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے حشر ہیں اُس کی غزال سی آنکھیں
سنا ہے اُس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اُس کی سیاہ چشمگیں قیامت ہے
سو اُس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات اُسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بامِ فلک سے اُتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اُس کی
سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اُس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو ہم بہار پر الزام دھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اُس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت
مکیں اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اُس کی
جو سادہ دل ہیں اُسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ اِمکاں میں
پلنگ زاویے اُس کی کمر کے دیکھتے ہیں
رُکے تو گردشیں اُس کا طواف کرتی ہیں
چلے تو اُس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
بس اِک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا
سو راہروانِ تمنّا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
اب اُس کے شہر میں ٹھہریں یا کُوچ کر جائیں
فرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں




تبصرہ کیجئے