44 total views, 2 views today

وکی پیڈیا کے مطابق آنند نرائن ملا (Anand Narain Mulla) اُردو کے مشہور شاعر 24 اکتوبر 1901ء کو لکھنؤ انڈیا میں پیدا ہوئے۔
کشمیری الاصل برہمن تھے۔ والد کا نام جسٹس جگت نرائن تھا۔ 1921ء میں کیننگ کالج لکھنؤ سے بی اے کیا۔ پھر 1923ء میں لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم اے کرنے کے بعد وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوگئے۔ 1954ء میں اِلہ آباد ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ زندگی اُردو کی خدمت اور ترویج و ترقی کے لیے کوشش اور محنت سے عبارت ہے۔ ان کی انجمنِ ترقیِ اردو (ہند) کی صدارت (1969ء تا 1983ء) کے زمانے میں انجمن نے بہت ترقی کی۔ وہ حکومتِ ہند کے ترقیِ اُردو بورڈ کے نائب صدر رہے۔ اتر پردیش اُردو اکادمی کے صدر کی حیثیت سے عرصے تک کام کیا۔
سیاسی مزاج مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو کے تصورات کے زیر سایہ پروان چڑھا تھا۔ شاعری میں حب الوطنی اور جذبۂ قومی یک جہتی کے ساتھ ایک فکری میلان بھی ہے۔ نظم اور غزل دونوں میں قابلِ قدر کارنامے انجام دیے اور نثر میں بھی بہت کچھ لکھا۔ پانچ مجموعہ کلام شائع ہوئے۔ ’’جوئے شیر‘‘(1949ء)، ’’کچھ ذرے کچھ تارے‘‘(1959ء) ، ’’میری حدیثِ عمرِ گریزاں‘‘ (1963ء)، ’’سیاہی کی ایک بوند‘‘ (1973ء) ، ’’کربِ آگہی‘‘(1977ء)۔
1964میں ساہتیہ اکیڈمی انعام بھی ملا۔ چند طویل نظمیں بھی لکھیں، مثلاً: ’’اندھیر نگری میں دیپ جلائیں‘‘ اور ’’اور ایک دن انسان جاگے گا۔‘‘




تبصرہ کیجئے