27 total views, 1 views today

وکی پیڈیا کے مطابق اردو کی نامور مصفنہ، افسانہ نگار، ناول نگار اور خاکہ نگار بیگم حمیدہ اختر حسین رائے پوری 22 نومبر 1918ء کو اُتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔
اردو کے مشہور ادیب اختر حسین رائے پوری کی شریک حیات تھیں۔ والد ظفر عمر اُردو کے پہلے جاسوسی ناول نگار تسلیم کیے جاتے ہیں۔
1992ء میں اختر حسین رائے پوری کی وفات کے بعد بیگم حمیدہ اختر حسین نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا اور اپنے بے ساختہ اور سادہ اسلوب بیان کی بنا پر اُردو کی اہم اہلِ قلم میں شمار ہونے لگیں۔ خودنوشت سوانح عمری ’’ہم سفر‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی جو اُردو کے ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوئی۔ دیگر تصانیف میں خاکوں کے دو مجموعے ’’نایاب ہیں ہم‘‘ اور ’’چہرے مہرے‘‘ ، بچوں کی کہانیوں کا مجموعہ ’’سدا بہار‘‘، کھانے پکانے کی ترکیبوں کا مجموعہ ’’پکاؤ اور کھلاؤ‘‘ اور ایک ناول ’’وہ کون تھی؟‘‘ شامل ہیں۔ ان کی خود نوشت ہم سفر کا انگریزی ترجمہ My Fellow Traveller کے نام سے شائع ہوا جسے امینہ اظفر نے ترجمہ کیا۔
1998ء میں اکادمی ادبیات پاکستان نے ان کی کتاب ’’نایاب ہیں ہم‘‘ پر ’’وزیر اعظم ادبی انعام‘‘ عطا کیا۔
20 اپریل کو 2009ء کو کراچی میں انتقال کرگئیں۔




تبصرہ کیجئے