55 total views, 2 views today

وکی پیڈیا کے مطابق مشہور شاعر میرا جی 3 نومبر 1949ء کو انتقال کرگئے۔
اصل نام محمد ثناء اللہ تھا۔ منشی محمد مہتاب الدین کے ہاں 25 مئی 1912ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ساحریؔ تخلص کرتے تھے لیکن ایک بنگالی لڑکی ’’میرا سین‘‘ کے یک طرفہ عشق میں گرفتار ہو کر میراجیؔ تخلص اختیار کرلیا۔
میراجی کی ذات سے ایسے واقعات وابستہ ہیں کہ ان کی ذات عام آدمی کے لیے ایک افسانہ بن کر رہ گئی ہے۔ اُن کا حلیہ اور حرکات و سکنات ایسی تھیں کہ یوں معلوم ہوتا تھا انہوں نے سلسلہ ملامتیہ میں بیعت کرلی ہے ۔ لمبے لمبے بال،بڑی بڑی مونچھیں، گلے میں مالا، شیروانی پھٹی ہوئی، اوپر نیچے بیک وقت تین پتلونیں، اوپر کی جب میلی ہوگئی تو نیچے کی اوپر اور اوپر کی نیچے بدل جاتی۔ شیروانی کی دونوں جیبوں میں بہت کچھ ہوتا۔ کاغذوں اور بیاضوں کا پلندا بغل میں دابے بڑی سڑک پر پھرتا تھااور چلتے ہوئے ہمیشہ ناک کی سیدھ میں دیکھتا تھا۔ وہ اپنے گھر اپنے محلے اور اپنی سوسائٹی کے ماحول کو دیکھ دیکھ کر کڑھتا تھا۔ اس نے عہد کر رکھا تھا کہ وہ اپنے لیے شعر کہے گا۔ صرف 38 سال کی عمر میں 3 نومبر 1949ء کو انتقال کرگئے۔
مختصر سی عمر میں میراجی کی تصانیف میں ’’مشرق و مغرب کے نغمے‘‘، ’’اس نظم میں نگار خانہ‘‘ اور ’’خیمے کے آس پاس‘‘ شامل ہیں۔ جب کہ ’’میراجی کی نظمیں‘‘، ’’گیت ہی گیت‘‘، ’’پابند نظمیں‘‘ اور ’’تین رنگ‘‘ بھی شاعری کے مجموعے ہیں۔




تبصرہ کیجئے