42 total views, 1 views today

“punjnud.com” کے مطابق انقلابی شاعر ارشاد جالندھری 30 اکتوبر 2015ء کو عارضۂ قلب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے نہایت کس مہ پرسی کی حالت میں انتقال کرگئے۔
پسرام پور ضلع جالندھر میں 1945ء میں پیدا ہوئے۔ نام ارشاد علی رکھا گیا ۔بعد میں اپنے نام کے ساتھ جالندھری لکھنے لگے۔دو سال کی عمر تھی جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا، تو لاکھوں لٹے پٹے مہاجروں کے ساتھ ارشاد کے والدین بھی ہجرت کر کے پاکستان کبیر والا ضلع خانیوال کے ایک قصبہ نڑھال میں آ گئے ۔بچپن اور جوانی کے ایام یہاں گزارے ۔صرف مڈل تک تعلیم حاصل کی اس کے بعد سکول چھوڑ دیا ۔
شاعری کا شوق چرایا تو ڈاکٹر بیدل حیدری کی شاگردی اختیار کی ۔
نمونۂ کلام ملاحظہ ہو:
کچھ بول میرِ کارواں
جب لٹ رہا ہو گلستاں
جب جل رہے ہوں آشیاں
جب گر رہی ہوں بجلیاں
جب ہو فضاؤں میں دھواں
جب شہر ہو آتش فشاں
جب لٹ جائے کون ومکاں
کچھ بول میرِ کارواں
ہم ہو رہے ہیں بد گماں




تبصرہ کیجئے