72 total views, 1 views today

وکی پیڈیا کے مطابق 28 مارچ 1941ء کو برطانوی خاتون ناول نگارورجینیا وولف نے خودکشی کی۔
وہ لندن میں پیدا ہوئیں۔ والد “Leslie Stephen” ایک ادیب تھے۔ گھر میں خوشحالی تھی۔ ورجینیا اور بہن بھائیوں نے کسی اسکول جانے کی بجائے گھر ہی پر تعلیم حاصل کی، جس کے لیے قابل اساتذہ باقاعدہ گھر آیا کرتے تھے۔ 13 برس کی تھیں کہ والدہ کا انتقال ہو گیا۔ پہلی مرتبہ ورجینیا ایک بڑے نفسیاتی بحران سے دوچار ہوئیں۔ اُس کے کچھ ہی عرصے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ یہ واقعہ عمر بھر کے ایک روگ کی شکل اختیار کر گیا۔
شروع میں جریدے ٹائمز کے لیے باقاعدگی کے ساتھ مضامین لکھتی رہیں۔ گھر اُس وقت کے اہم ادیبوں کے مل بیٹھنے کے ایک مرکز کی شکل اختیار کرگیا۔ اِن ادبی مباحث میں اُس دَور کی سیاست، ادب اور فنون پر بھرپور طریقے سے اظہارِ خیال کیا جاتا تھا۔ اِن محفلوں میں وَرجینیا خود کو ایک زندہ دِل شخصیت کے طور پر پیش کرتی تھیں لیکن اندر سے دُکھی تھیں۔
1912ء ہی میں اُن کا پہلا ناول “The Voyage Out” شائع ہوچکا تھا۔ اِس کے بعد کے برسوں میں کئی ناول شائع ہوئے، جن میں انسان کے شعوری تانے بانے کو بیان کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں۔ اگرچہ ورجینیا کے ناول آج بھی اہم ادبی تخلیقات میں شمار ہوتے ہیں، لیکن اُن کی اصل وجہِ شہرت اُن کے بعد کے دَور کے مضامین ہیں۔ 1929ء میں اُن کا مضمون شائع ہوا تھا “A Room of One’s Own” ۔مذکورہ مضمون میں انہوں نے ادب تخلیق کرنے والی خواتین کے خراب حالات کی طرف متوجہ کیا تھا۔ لکھا تھا کہ سال میں پانچ سو پاؤنڈ ادا کیے جائیں، اور رہنے کے لیے ایک الگ کمرہ دیا جائے، تو خواتین کو بھی ویسی ہی کامیابی مل سکتی ہے ، جیسے کہ مرد ادیبوں کو۔ تاہم ادب کے میدان میں کامیابیاں اُن کی خراب نفسیاتی حالت کو بہتر نہ بنا سکیں۔
دوسری عالمی جنگ کے دوران 1940ء میں جرمن جنگی طیاروں نے ورجینیا کے لندن کے گھر کو تباہ کر دیا۔ 28 مارچ سن 1941ء کو اُنہوں نے ایک ندی میں چھلانگ لگا دی اور ڈوب کر اپنی مایوسیوں سے ہمیشہ کے لیے نجات پا گئیں۔
مغربی دُنیا میں وہ غالباً پہلی ادیبہ ہیں، جس نے خواتین پر زور دیا کہ وہ محض مرد ادیبوں کی نقالی کرنے کی بجائے اپنے الگ تخلیقی راستے تلاش کریں۔




تبصرہ کیجئے