373 total views, 1 views today

وکی پیڈیا کے مطابق خوشبو کی شاعرہ کہلانے والی پروین شاکر 26 دسمبر 1994ء کو ٹریفک کے ایک حادثے میں اسلام آباد میں، بیالیس سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔
وہ 24 نومبر 1952ء کو روشنیوں کے شہر کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔کم لوگ جانتے ہیں کہ آپ حسن عسکری کی نواسی تھیں۔ انہوں نے بچپن میں پروین شاکر کو کئی شعرا کے کلام سے روشناس کروایا۔ پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتیں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور زبان دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعۂ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔
پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے بھی وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کرلی۔
آپ کی شاعری کا موضوع محبت اور عورت ہے ۔ آپ کی تصانیف یہ ہیں:خوشبو 1976ء، صد برگ 1980ء، خود کلامی 1990ء، انکار 1990ء اور ماہِ تمام 1994ء۔
آپ کا یہ لازوال شعر رہتی دنیا تک آپ کی پہچان بنا رہے گا:
وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے ، پھول کدھر جائے گا




تبصرہ کیجئے