143 total views, 1 views today

وکی پیڈیا کے مطابق نوجوان شاعر اور افسانہ نگار الیاس بابر اعوان 28 مئی 1976ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔
ان کے والد کا نام محمد افضل اعوان ہے۔ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں شعر و ادب کی دنیا میں وارد ہوئے۔ اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز میں انگریزی ادب کے لیکچرار ہیں۔ اردو، انگریزی اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ حلقۂ ارباب ِ ذوق راولپنڈی کے چار سال تک سیکرٹری رہے اور جدیدادبی تنقیدی فورم کے بانی ہیں۔ اردو میں تنقید، نظم، غزل اور افسانے کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی شاعری اور افسانے لکھتے ہیں۔ اب تک ان کے دو شعری مجموعے ’’خوابِ دگر‘‘ اور ’’نووارد‘‘ شائع ہوچکے ہیں۔ نمونۂ کلام ملاحظہ ہو:
آنکھ کھلے گی بات ادھوری رہ جائے گی
ورنہ آج مری مزدوری رہ جائے گی
جی بھر جائے گا بس اُس کو تکتے تکتے
کچی لسی میٹھی چُوری رہ جائے گی
اُس سے ملنے مجھ کو پھر سے جانا ہوگا
دیکھنا پھر سے بات ضروری رہ جائے گی
تھوڑی دیر میں خواب پرندہ بن جائے گا
میرے ہاتھوں پر کستوری رہ جائے گی
تم تصویر کے ساتھ مکمل ہو جاؤ گے
لیکن میری عمر ادھوری رہ جائے گی




تبصرہ کیجئے