151 total views, 1 views today

وکی پیڈیا کے مطابق ممتاز شاعر اور فلمی نغمہ نگار تنویر نقوی یکم نومبر 1972 ء کو انتقال کرگئے۔
آپ کے گیتوں: ’’دل کا دیا جلایا‘‘، ’’آواز دے کہاں ہے‘‘ ، ’’چٹھی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دے‘‘، ملی نغمہ ’’رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو‘‘ اور نعت ’’شاہِ مدینہ، یثرب کے والی‘‘ کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔
تنویر نقوی 6 فروری 1919ء کو لاہور، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نا م سید خورشید علی تھا، تاہم انہوں نے فلمی دنیا میں ’’تنویر نقوی‘‘ کے نام سے شہرت پائی۔ انہوں نے بارہ سال کی عمر سے شاعری کا آغاز کیا اور 1938ء میں پہلی بار فلم شاعر کے لیے گیت لکھے اور بمبئی کی فلموں کے لیے گیت نگاری کرنے لگے۔
تقسیم ہند سے قبل فلم ’’انمول گھڑی‘‘ نے انہیں شہرت دی جس کے گیتوں میں ’’آواز دے کہاں ہے‘‘ سب سے زیادہ مقبول ہوا، مگر ’’آجا میری برباد محبت کے سہارے‘‘ اور ’’جوان ہے محبت حسین ہے زمانہ‘‘ بھی زبان زدِ عام ہوئے۔
پاکستان آمد کے بعد انہوں نے پہلی پاکستانی فلم ’’تیری یاد‘‘ کے گیت لکھے، تاہم پاکستان میں انہیں اصل شہرت 1959ء میں فلم کوئل کی گیت نگاری پر ملی، جس کے گیتوں ’’رم جھم رم جھم پڑے پھوار‘‘ یا ’’مہکی فضائیں گاتی ہوائیں‘‘ اور ’’دل کا دیا جلایا‘‘ نے مقبولیت کی تمام حدوں کو توڑ دیا۔ اسی طرح 1960ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’ایاز‘‘ کا گیت ’’رقص میں ہے سارا جہاں‘‘ اور 1962ء میں فلم ’’شہید‘‘ کا گیت ’’میری نظریں ہیں تلوار‘‘ بھی آج تک لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہے۔ اس کے علاوہ فلم انارکلی کے گیت ’’کہاں تک سنو گے، کہاں تک سناؤں‘‘ یا ’’جلتے ہیں ارمان میرا دل روتا ہے‘‘ سمیت متعدد کامیاب فلموں کے گیت ان کے زورَ قلم کا نتیجہ تھے۔ انہوں نے کئی فلموں کے لیے کئی خوبصورت نعتیں بھی تحریر کیں، جن میں فلم ’’نور اسلام‘‘ کی نعت ’’شاہ مدینہ، یثرب کے والی‘‘ اور فلم ایاز کی نعت ’’بلغ العلی بکمالہ‘‘ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
تنویر نقوی نے دو شادیاں کی تھیں ان کی پہلی بیوی فلمی ادکارہ مایا دیوی تھیں جب کہ دوسری بیوی ملکہ ترنم نورجہاں کی بڑی بہن عیدن تھیں۔
تنویر نقوی کی شاعری کا مجموعہ ’’سنہرے سپنے‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔




تبصرہ کیجئے