169 total views, 1 views today

وکی پیڈیا کے مطابق شاعرہ ثمینہ راجا 30 اکتوبر 2012ء کو اکیاون سال کی عمر میں اسلام آباد میں انتقال کرگئیں۔
وہ بہاولپور کے ایک جاگیردار گھرانے میں 11 ستمبر 1961ء کو پیدا ہوئیں۔ 12، 13 برس کی عمر سے شعر گوئی کا آغاز ہوا اور جلد ہی ان کا کلام پاک و ہند کے معتبر ادبی جرائد میں شائع ہونے لگا۔ لیکن اپنے گھرانے کی روایات اور سماجی پابندیوں کے سبب ان کو شعری و ادبی محفلوں میں شرکت کے مواقع حاصل نہ ہوسکے۔ لہٰذا ان کی شاعری ایک طویل عرصے تک صرف ’’فنون‘‘، ’’نقوش‘‘، ’’اوراق‘‘ ،’’نیا دور‘‘ اور ’’سیپ‘‘ جیسے ادبی جرائد اور سنجیدہ حلقوں تک ہی محدود رہی۔ ایک عمر کی جدوجہد اور ریاضت کے بعد بالآخر وہ اپنے فن کو لوگوں کے سامنے لانے میں کامیاب ہوئیں۔ ان کے خاندان میں مستورات کی تعلیم کا کوئی تصور نہیں تھا، چناں چہ انہوں نے نہایت نامساعد اور نا موافق حالات میں پرائیویٹ طور پر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور اردو ادب میں ایم اے پاس کیا ۔
1995ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’ہویدا‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ تب سے اب تک ان کے گیارہ مجموعے ہویدا، شہر سبا اوروصال، خوابنائے، باغ شب، بازدید، ہفت آسمان، پری خانہ، عدن کے راستے پر، دل ِ لیلیٰ اور عشق آباد شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی شاعری دو ضخیم کلیات کی صورت میں بھی شائع ہو چکی ہے ۔




تبصرہ کیجئے