322 total views, 1 views today

وکی پیڈیا کے مطابق معروف اردو صوفی شاعر، فلسفی اور اسکالر ذہین شاہ تاجی 23 اگست 1902ء کو جے پور میں پیدا ہوئے۔
آپ کا تعلق صوفیا کے سلسلۂ چشتیہ سے تھا۔ آپ کا سلسلۂ نسب دوسرے خلیفہ حضرتِ عمر فاروقؓ سے ملتا تھا۔ آپ کا اصل نام محمد طاسین فاروقی اور ذہینؔ تخلص تھا۔ آپ کے والد پیرزادہ خواجہ دیدار بخش فاروقی تھے۔
آپ نے ابن عربی کی کتاب ’’فصوص الحکم‘‘ اور منصور بن حلاج کی مشہور تصنیف’’الطوسین‘‘ کا اردو ترجمہ کیا، جس میں خدا اور ابلیس (شیطان) کا مکالمہ بھی شامل ہے۔ آپ کی سب سے اہم کتاب ’’تاج الاولیا‘‘ بابا تاج الدین ناگوری کی سوانح عمری جو اردو اور فارسی میں لکھی گئی تھی۔ آپ نے سولہ سے زائد کتابیں لکھیں۔ عموماً وہاں پر مذہبی اور علمی مباحث ہوا کرتی تھیں۔
آپ کی باتوں میں بلا کا کمال، جمال اور جلال ہوتا تھا۔ ایک دن ’’سجدے‘‘ پر بحث شروع ہو گئی۔ آپ نے سجدے کی کوئی دو درجن اقسام گنوائیں اور اس کی عام فہم تشریح بھی کی۔ آپ کی گفتگو میں بہت علمیت ہوتی تھی، اور عشا کی نماز کے بعد مشاعرہ بھی ہوتا تھا، جس میں کراچی کے شعرا حصہ لیتے تھے۔
23جولائی 1978ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔




تبصرہ کیجئے