249 total views, 1 views today

“aalmiakhbar.com” کے مطابق ممتاز سوز خواں، سید آفتاب علی کاظمی 29 جون 1981ء کو انتقال پاگئے۔
تعلّق دہلی کے ایک عزادار گھرانے سے تھا۔ اوائلِ عمری میں سوز خوانی کا آغاز کیا اور اس فن کو سامعین کے لیے پسندیدہ بنانے کی خاطر ریاضت کو اپنا شعار بنایا۔ اس ریاضت کے نتیجے میں کلاسیکل سوزخوانی پر ملکہ حاصل کیا اور ایک کُہنہ مشق اور مُنفرد انداز کے حامل سوزخواں کے طور پر مقبول ہوئے۔ نہ صرف روایتی بندشوں کو خوبی سے مجالس میں پیش کیا کرتے تھے بلکہ لاتعداد بندشیں خود بھی وضع کیں جن کی بنیاد کلاسیک ہوا کرتی تھی۔ دیگر مجالس کے علاوہ ایک عرصے تلک نشتر پارک کراچی میں منعقد ہونے والی مجالس میں سوز خوانی کرتے رہے۔




تبصرہ کیجئے