433 total views, 1 views today

وکی پیڈیا کے مطابق اردو کے ممتاز مطائبات نگار، شاعر، ادیب اور صحافی چراغ حسن حسرت 26 جون 1955ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔
آپ 1904ء میں بمیار ضلع پونچھ (کشمیر) میں پیدا ہوئے۔ حصولِ تعلیم کے بعد انہوں نے کلکتہ میں اخبار نویسی کا کام شروع کیا اور اخبار “نئی دنیا” کے ذریعے ایک مِزاح نگار کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ اس کے بعد لاہور آ گئے اور متعدد اخبارات سے وابستہ رہے جن میں آفتاب، زمین دار، شہباز، احسان، امروز اور نوائے وقت کے نام سرفہرست تھے۔
مولانا چراغ حسن حسرتؔ کا شمار اردو کے صفِ اول کے طنز نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ “سند باد جہازی” کے نام سے فکاہیہ کالم لکھا کرتے تھے۔ قبل ازیں وہ اپنے کالموں میں “کولمبس” کا قلمی نام بھی استعمال کرتے رہے ۔
حسرتؔ نے ایک ہفت روزہ رسالہ “شیرازہ” بھی جاری کیا۔ اس کے بیشتر مضامین مِزاحیہ ہوا کرتے تھے لیکن بہت جلد اسے چھوڑ کر ریڈیو میں ملازم ہو گئے۔ کچھ دنوں محکمۂ پنچایت پنجاب کے ہفت روزہ “ترجمان” کی ادارت سنبھال لی۔ دوسری جنگ عظیم میں فوجی اخبار سے وابستہ ہوے اور میجر کے عہدے تک جا پہنچے۔ فوجی ملازمت کے سلسلہ میں “برما” اور “ملایا” بھی جانا پڑا۔ قیامِ پاکستان کے بعد “امروز” کی ادارت سنبھال لی، لیکن بہت جلد یہ ملازمت ترک کرکے ریڈیو پاکستان میں قومی پروگرام کے ڈائریکٹر ہو گئے۔
حسرت 26 جون 1955ء کو لاہور میں انتقال کے بعد میانی صاحب کے قبرستان میں پیوندِ خاک ہوئے۔




تبصرہ کیجئے