294 total views, 1 views today

وکی پیڈیا کے مطابق اُنیسویں صدی کے سب سے بڑے شاعر اسداللہ بیگ خان 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔
آپ کے والد کا نام عبد اللہ بیگ تھا۔ آپ اول اول اسدؔتخلص رکھتے تھے بعد میں غالبؔ کے تخلص سے مشقِ سخن جاری رکھا اور مرزا غالبؔ کے نام سے شہرتِ دوام پائی۔
غالبؔ بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے۔ اُن کی پرورش اُن کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی، لیکن آٹھ سال کی عمر میں وہ بھی فوت ہوگئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ء میں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الٰہی بخش خاں معروف کی بیٹی امراؤ بیگم سے ہو گئی۔ شادی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔
شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ء میں بہادر شاہ ظفر نے ان کو ’’نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ‘‘ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندانِ تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا۔یوں 50 روپے ماہوار مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔
غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی۔ چناں چہ انقلابِ 1857ء کے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا، انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادمِ حیات ملتا رہا۔ کثرتِ شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی۔ مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو انتقال فرمایا۔




تبصرہ کیجئے