وکی پیڈیا کے مطابق قتیل شفائی 24 دسمبر 1919ء کو صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقہ ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے۔
آپ کا اصل نام اورنگزیب خان اور تخلص قتیل شفائی تھا۔ بعد میں آپ نے لاہور میں سکونت اختیار کی اور یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے۔آپ نے ڈھیر سارے فلموں کے لیے گیت لکھے۔ ایک دور ایسا تھا کہ آپ کا کلام کسی فلم کی کامیابی کی ضمانت ٹھہرتا۔
آپ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا اور اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دیے گئے، جن میں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی 1994ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایورڈ اور نقوش ایورڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت کی مگھد یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے ‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاولپور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا ہے۔
آپ کے کلیات ’’رنگ خوشبو روشنی‘‘ کے نام سے تین جلدوں پر مبنی ہیں۔
نمونہ کے طور پر ان کے یہ دو اشعار ملاحظہ ہوں:
آج تک ہے دل کو اس کے لوٹ آنے کی امید
آج تک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ
لاکھ چاہا ہے کہ اس کو بھول جاؤں، پر قتیلؔ
حوصلے اپنی جگہ ہیں، بے بسی اپنی جگہ




تبصرہ کیجئے