647 total views, 1 views today

وکی پیڈیا کے مطابق قومی ترانہ کے خالق، نامور اور مقبول رومانی شاعر اور افسانہ نگار ابوالاثر حفیظ جالندھری 21 دسمبر 1982ء کو وفات پاگئے۔
حفیظ جالندھری ہندوستان کے شہر جالندھر میں 14 جنوری 1900ء کو پیدا ہوئے تھے۔ آزادی کے وقت 1947ء میں لاہور آ گئے۔ آپ نے تعلیمی اسناد حاصل نہیں کیں، مگر اس کمی کو انہوں نے خود پڑھ کر پوری کیا۔ انھیں نامور فارسی شاعر مولانا غلام قادر بلگرامی کی اصلاح حاصل رہی۔ آپ نے محنت اور ریاضت سے نامور شعرا کی فہرست میں جگہ بنالی۔
حفیظ جالندھری پاک فوج میں ڈائریکٹر جنرل مورال، صدر پاکستان کے چیف ایڈوائزر اور رائٹرز گلڈ کے ڈائریکٹر کے منصب پر بھی فائز رہے۔
آپ کا نمونۂ کلام ذیل میں دیا جاتا ہے
جہاں قطرے کو ترسایا گیا ہوں
وہاں ڈوبا ہوا پایا گیا ہوں
سپردِ خاک ہی کرنا تھا مجھ کو
تو پھر کاہے کو نہلایا گیا ہوں
مجھے تو اس خبر نے کھو دیا ہے
سنا ہے میں کہیں پایا گیا ہوں
حفیظؔ اہلِ جہاں کب مانتے تھے
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں




تبصرہ کیجئے