813 total views, 3 views today

وکی پیڈیا کے مطابق عزیز میاں قوال کا انتقال 6دسمبر 2000ء کو تہران (ایران) میں یرقان کی وجہ سے ہوا۔ انہیں حضرت علی کرم اللہ وجہ کی برسی کے موقع پر ایرانی حکومت نے قوالی کے لیے مدعو کیا تھا۔ آپ کو ملتان میں دفن کیا گیا۔
آپ کا اصل نام عبد ا لعزیز تھا۔ ’’میاں‘‘ آپ کا تکیۂ کلام تھا، جو آپ اکثر اپنی قوالیوں میں بھی استعمال کرتے تھے ، جو بعد میں آپ کے نام کا حصہ بن گیا۔
آپ نے اپنے فنی دور کا آغاز ’’عزیز میاں میرٹھی‘‘ کی حیثیت سے کیا۔ میرٹھی کی وجۂ تسمیہ یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد عزیز میاں نے بھارت کے شہر میرٹھ سے اپنے وطن کی طرف ہجرت کی تھی۔
عزیز میاں نہ صرف ایک عظیم قوال تھے بلکہ ایک عظیم فلسفی بھی تھے ، جو اکثر اپنے لیے شاعری خود کرتے تھے۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے اردو اور عربی میں ایم اے کیا ہوا تھا۔




تبصرہ کیجئے