522 total views, 2 views today

اردو اور ہندکو کے ممتاز شاعر، ادیب، نقاد، پشاور یونیورسٹی کے استاد اور اکادمی ادبیات پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل خاطر غزنوی 25 نومبر 1925ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔
خاطر غزنوی کا اصل نام مرزا ابراہیم بیگ اور خاطرؔ تخلص تھا۔ آپ نے عملی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان پشاور سے کیا۔ بعد ازاں پشاور یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کیا اور اسی شعبہ میں تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوئے۔ اس دوران میں وہ دو ادبی جرائد ’’سنگ میل‘‘ اور ’’احساس‘‘ سے منسلک رہے ۔
1984ء میں آپ کو اکادمی ادبیات پاکستان کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔ آپ کی خدمات کی بنا پر آپ کو صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ سات جولائی 2008ء کو آپ پشاور میں وفات پاگئے۔ آپ کی ایک شہرہ آفاق غزل کے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں:
گو ذرا سی بات پہ برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے
میں اِسے شہرت کہوں یا اپنی رُسوائی کہوں
مجھ سے پہلے اُس گلی میں، میرے افسانے گئے
کیا قیامت ہے کہ خاطرؔ کشتۂ شب بھی تھے ہم
صبح بھی آئی، تو مجرم ہم ہی گردانے گئے




تبصرہ کیجئے