620 total views, 1 views today

ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے ہندوستان پر قبضہ کرنے والے انگریزوں نے یہاں طویل عرصے تک حکومت کی۔ اس عرصے میں انہوں نے نہایت کامیابی سے ہندوستان کے باشندوں کو غلام بنائے رکھا۔ غلامی کی زنجیر کو مضبوط بنانے اور اس میں مزید طاقت پیدا کرنے کے لیے سول سروس کے اہلکار کام آتے تھے۔ سول سروس جس کے ارکان کی تعداد ہندوستان میں کبھی ہزار ڈیڑھ ہزار سے زیادہ نہیں رہی۔ یہ افراد کروڑوں ہندوستانیوں کی قسمت کا فیصلہ کرتے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں قوم کی قسمت کا باگ تھا، جسے وہ جدھر چاہے موڑ دیتے تھے۔ اس سروس میں زیادہ تر انگریز ہوتے تھے، لیکن ایک خاص تعداد ہندوستانی تعلیم یافتہ لوگوں کی بھی تھی۔ یہ ہندوستانی لوگ انگریزوں کے سامنے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کا بھرم رکھنے کے لیے عجیب عجیب حرکتیں کرتے تھے۔ یہ تاجِ برطانیہ کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے تھے۔ اپنی شناخت، اپنی ثقافت اور اپنی عزت تک کو بھی داؤ پر لگاتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ وہ اپنے ہندوستانی ہونے پر نادم تھے۔ وہ اپنی اس شناخت کو چھپانے کی حتی الوسع کوشش کرتے تھے۔ اسی کا اثر تھا کہ وہ اپنے بچوں کے نام انگریزی طرز پر رکھتے تھے۔ ان کی تعلیم مکمل انگریزی سکولوں میں کرتے تھے اور انہیں دھوپ سے بچاتے تھے، تاکہ ان کا رنگ گورا ہو۔
مولوی عبدالحق نے اپنے ایک مضمون ’’آئی سی ایس‘‘ میں ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے۔ ایک کالا انگریز (ہندوستانی) اپنے کسی دوست کے پاس بیٹھا تھا کہ اس کے والد کمرے میں بے تکلف چلے آئے۔ ان کی دیہاتی وضع قطع ایسی تھی کہ صاحب بہادر کو اپنے دوست کے سامنے انہیں اپنا والد بتاتے ہوئے شرم آئی۔ لہٰذا یہ کہہ کر تعارف کرایا: ’’یہ میرے والد کے ایک دوست ہیں۔‘‘ والد محترم کو غصہ آگیا۔ انہوں نے بیٹے کے دوست کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’میں ان کے والد کا نہیں، والدہ کا دوست ہوں۔‘‘
شناخت انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا وہ عجیب تحفہ ہے جس کے ساتھ انسان کے تمام جذبات واحساسات وابستہ ہوتے ہیں۔ ہم جب کہیں دیارِ غیر میں کسی اپنے کو دیکھ لیتے ہیں، تو چاہے اپنے گاؤں یا شہر میں اس کے ساتھ زیادہ تعلق نہ ہو لیکن پردیس میں اس کو دیکھ کر دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔ ہمیں اپنے وطن سے محبت ہوتی ہے۔ اپنی مٹی عزیز ہوتی ہے۔ اپنے خاندان کے افراد دل کے قریب ہوتے ہیں۔ پردیس سے وطن لوٹتے ہوئے عزیزوں کے لیے چاہت بھرے جذبات ہوتے ہیں۔ یہ سب اسی شناخت کے کرشمے ہیں۔
اس کے برعکس جو لوگ اپنی شناخت نہیں رکھتے یا جو اپنی شناخت پر نادم رہتے ہیں، ان کا رویہ بہت ہی معذرت خواہانہ ہوتاہے۔ ایسے لوگ احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی مٹی، اپنے عزیزوں اور اپنے وطن پر غصہ آتا ہے۔ انہیں قدرت پر بھی غصہ آتا ہے کہ اسے ایسے لوگوں میں کیوں پیدا کیا؟ ایسے لوگ غیروں کی تہذیب میں سکون اور پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا شخص کبھی کسی دوسرے معاشرے کا کامیاب فرد نہیں بن سکتا۔
مشہور چینی لیڈر ماؤزے تنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نہایت اچھی انگریزی بول لیتے تھے، لیکن اپنی ثقافت اور زبان سے اتنا لگاؤ تھا کہ ایک مرتبہ کسی نے انگریزی زبان میں کوئی ایسا لطیفہ جھڑ دیا جس سے بے اختیار ہنسی آجائے، محفل میں انگریزی سمجھے والے سب لوگ ہنس پڑے، لیکن ماؤزے تنگ سپاٹ چہرے کے ساتھ خاموش بیٹھے رہے اور اس وقت تک نہیں ہنسے جب تک اس لطیفے کا چینی زبان میں ترجمہ نہ کیا گیا۔
بلاشبہ اپنی ثقافت اور اپنی شناخت سے محبت انسان کو دنیا میں ترقی کے راستے دکھاتی ہے۔ علامہ اقبال نے شاید اسی بنا پر کہا تھا
حکمت از قطع وبرید جامہ نیست
مانع علم وہنر عمامہ نیست
لباس کی تنگی ترشتی اور غیروں کا لباس اختیار کرنے سے علم نہیں آتا، اور نہ عمامہ ودستار کسی علم کے سیکھنے میں مانع ہی ہوسکتا ہے۔ علم کا حصول کسی لباس یا حلیے کا محتاج نہیں ہوتا۔ یہ بات حیران کن سی لگتی ہے کہ آج کل معاشرے کے بعض طبقات محض حلیے کی وجہ سے ایک دوسرے سے دوری اختیار کیے ہوئے ہیں اور حلیے کے اختلاف کی وجہ سے وہ ایک دوسرے استفادہ بھی نہیں کر رہے۔ مولوی کو اپنے حلیے کا بھرم رکھنے کے لیے مسٹر کے محفل میں بیٹھنا گوارا نہیں اور مسٹر اپنی اکڑپن کی وجہ سے مولوی کے ساتھ وقت گزارنے کو معیوب سمجھتا ہے۔ اسی طرح غریب شخص محض اچھے کپڑے نہ ملنے کی وجہ سے کسی امیر عالم فاضل کی صحبت سے کتراتا ہے اور امیر کبیر شخص کسی غریب عالم فاضل کی صحبت اٹھانے کو اپنی ہتک سمجھتا ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی، تو سمجھو کہ علم کہ جنازہ تو نکل ہی گیا، ساتھ میں اخلاقیات اور رواداری جیسے چیزیں بھی تہہ خاک دفن ہوجائیں گی۔ ہمیں چاہیے کہ علم کے حصول میں کسی قسم کے تکلف کو بالائے طاق رکھ کر صرف استفادے پر توجہ مرکوز رکھیں۔ کیوں کہ مسلمان کی پہچان اور شناخت اس کے علم اور تقویٰ سے ہوتی ہے نہ کہ اس کے جامے اور مالی حیثیت سے!

………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے