776 total views, 2 views today

محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو ’’عاشورہ‘‘ کہا جاتا ہے جس کے معنی ’’دسواں دن‘‘ کے ہیں۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت اور برکت کا حامل ہے۔ اس دن میں حضور اکرمؐ نے روزہ رکھا تھا اور مسلمانوں کو روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا تھا۔ پہلے تو یہ روزہ واجب تھا پھر جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے، تو مسلمانوں کو اختیار دے دیاگیا کہ چاہیں یہ روزہ رکھیں یا نہ رکھیں۔ البتہ اس کی فضیلت بیان کردی گئی کہ جو روزہ رکھے گا، اس کے سال گذشتہ کے چھوٹے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔پہلے یہ روزہ ایک دن رکھا جاتا تھا، لیکن یہودیوں کی مخالفت کے لیے آخر میں حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا، تو اِن شاء اللہ نویں محرم کو بھی روزہ رکھوں گا، لیکن اس خواہش پر عمل کرنے سے قبل ہی آپؐ کا وصال ہوگیا۔
واضح رہے کہ خلیجی ممالک میں پہلی محرم الحرام گیارہ ستمبر بروز منگل اور عاشورہ یعنی دسویں محرم الحرام جمعرات بمطابق 20 ستمبر2018ء کو ہے۔ خلیجی ممالک میں جو حضرات عاشورہ کے نفلی روزے رکھنا چاہتے ہیں وہ امسال (1440ھ) بدھ اور جمعرات یا جمعرات اور جمعہ کو رکھیں۔ صرف جمعرات کو ایک روزہ بھی رکھ سکتے ہیں۔ ہندوستان اور بر صغیر کے دیگر ممالک میں دسویں محرم الحرام جمعہ بمطابق 21 ستمبر 2018ء کو ہے۔ بر صغیر میں جو حضرات عاشورہ کے نفلی روزے رکھنا چاہتے ہیں، تو وہ امسال (1440ھ) جمعرات اور جمعہ یا جمعہ اور ہفتہ کو رکھیں، صرف جمعہ کو ایک روزہ بھی رکھ سکتے ہیں۔ حضور اکرمؐ کی تعلیمات کے مطابق صحابۂ کرامؓ بھی عاشورہ کے ان روزوں کا اہتمام فرماتے تھے۔
عاشورہ کے روزہ سے متعلق چند احادیث: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے لوگ عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور عاشورہ کے دن بیت اللہ کو غلاف پہنایا جاتا تھا۔ جب رمضان فرض ہوا، تو حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ (صحیح بخاری صفحہ 217)
دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قریش جاہلیت میں عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور حضور اکرمؐ بھی اس وقت یہ روزہ رکھتے تھے۔ جب مدینہ منورہ تشریف لائے، تو یہاں بھی روزہ رکھا اور اس روزہ کا بھی حکم دیا ۔ جب رمضان فرض ہوا، تو عاشورہ (کے روزے کا حکم) چھوڑ دیا گیا، جو چاہے روزہ رکھے جو چاہے نہ رکھے۔ (صحیح بخاری صفحہ 254، صفحہ 268)
حضرت رُبیع بنت مُعوِذ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرمؐ نے عاشورہ کی صبح انصار کے گاؤں میں اعلان کروایا کہ جس نے صبح کو کھاپی لیا ہو، وہ بقیہ دن پورا کرے (یعنی رُکا رہے )اور جس نے ابھی تک کھایا پیا نہیں، وہ روزہ رکھے۔ فرماتی ہیں کہ وہ بھی یہ روزہ رکھتی تھیں اور اپنے بچوں کو بھی روزہ رکھواتی تھیں اور ان کے لیے اُون کا کھلونا بناتی تھیں۔جب کو ئی بچہ کھانے لیے روتا، تویہ کھلونا اس کو دے دیتیں، یہاں تک کہ افطار کا وقت ہوتا۔ (صحیح بخاری ج۱ صفحہ 263، صحیح مسلم ج ۱ صفحہ 360)
حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرمؐ نے عاشورہ کے دن ایک آدمی کو بھیجا جو لوگوں میں یہ اعلان کررہا تھا کہ جس نے کھا لیا، وہ پورا کرے یا فرمایا بقیہ دن کھانے پینے سے رکا رہے اور جس نے نہیں کھایا، وہ نہ کھائے ( یعنی روزہ رکھے )۔ (بخاری ج ۱ صفحہ 257)
عاشورہ کے روزہ کا ثواب:۔ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا، مجھے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ جو شخص عاشورہ کے دن کا روزہ رکھے گا، تو اس کے پچھلے ایک سال کے گناہ کا کفارہ ہوجائے گا۔ (صحیح مسلم)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ عاشورہ کے روزے کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ سالِ گذشتہ کے گناہ معاف فرمادیں گے۔ (ترمذی ج ۱ صفحہ153)
ان احادیث میں گناہ سے صغائر گناہ مراد ہے، کبائر گناہ کے لیے توبہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
عاشورہ کے روزہ رکھنے کا طریقہ:۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اکرمؐ نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور لوگوں کو اس کا حکم دیا۔ لوگوں نے بتایا کہ یہودونصاریٰ اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، تو آپؐ نے فرمایاکہ اگر آئندہ سال زندہ رہا، تو ان شاء اللہ نویں کو (بھی) روزہ رکھوں گا، لیکن آئندہ سال آپؐ کا وصال ہوگیا۔ (مسلم ج۱ صفحہ 359)
خلاصۂ کلام:۔ حضور اکرمؐ کی حیاتِ طیبہ میں جب بھی عاشورہ کا دن آتا، آپؐ روزہ رکھتے، لیکن وفات سے پہلے جو عاشورہ کا دن آیا، تو آپؐ نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ دس محرم کو ہم بھی روزہ رکھتے ہیں اور یہودی بھی روزہ رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے اُن کے ساتھ ہلکی سے مشابہت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس لیے اگر میں آئندہ سال زندہ رہا، تو صرف عاشورہ کا روزہ نہیں رکھوں گا بلکہ اس کے ساتھ ایک اور روزہ نو یا گیارہ محرم الحرام کو رکھوں گا، تاکہ یہودیوں کے ساتھ مشابہت ختم ہوجائے۔ لیکن اگلے سال عاشورہ کا دن آنے سے پہلے ہی حضور اکرمؐ کا وصال ہوگیا اور آپ کو اس پر عمل کرنے کا موقع نہیں ملا۔ حضور اکرمؐ کے اس ارشاد کی روشنی میں صحابۂ کرام نے عاشورہ کے روزہ کے ساتھ نو یا گیارہ محرم الحرام کا ایک روزہ ملاکر رکھنے کا اہتمام فرمایا، اور اسی کو مستحب قرار دیا اور صرف عاشورہ کاروزہ رکھنا خلافِ اولیٰ قرار دیا۔ یعنی اگر کوئی شخص صرف عاشورہ کا روزہ رکھ لے، تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا بلکہ اس کو عاشورہ کا ثواب ملے گا، لیکن چوں کہ آپؐ کی خواہش دو روزے رکھنے کی تھی، اس لیے اس خواہش کی تکمیل میں بہتر یہی ہے کہ ایک روزہ اور ملاکر دو روزے رکھے جائیں۔
وضاحت:۔ بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ آپؐ کی وفات کے تقریباً پچاس سال بعد اکسٹھ ہجری میں نواسہ ٔرسولؐ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی وجہ سے اس دن کی اہمیت ہوئی ہے، حالاں کہ اس دن کی فضیلت واہمیت نبی اکرمؐ کے اقوال وعمل کی روشنی میں پہلے ہی سے ثابت ہے، جیسا کہ نبی اکرمؐ کے اقوال وعمل کی روشنی میں ذکر کیا گیا، ہاں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پیارے بیٹے اور جنت میں نوجوانوں کے سردار حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظیم شہادت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس بابرکت دن کا انتخاب کیا، جس سے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قربانی کی مزید اہمیت بڑھ جاتی ہے۔




تبصرہ کیجئے