1,053 total views, 1 views today

مدینہ کے باشندوں میں ایک شخص کی ہمشیرہ مدینہ شریف کی دوسری جانب رہتی تھی۔ وہ بیمار پڑ گئی۔ اس کا بھائی ہر روز اس کی عیادت کو جایا کرتا تھا۔ حتی کہ وہ فوت ہوگئی اور قبر میں دفن کر دی گئی۔ تدفین کے بعد وہ شخص واپس آگیا۔ پھر اُسے یاد آیا کہ اس کی ایک تھیلی بہن کی قبر میں گرچکی ہے۔ وہ اپنے ساتھ والوں میں میں سے ایک ساتھی کو اپنے ہمراہ لے کر وہاں قبر پر آئے، قبر کو کھولا اور اپنی تھیلی لے لی۔ پھر وہ شخص ساتھی سے کہنے لگا، ’’ذرا ہٹو! میں دیکھتا ہوں کہ میت کا کیا حال ہے؟‘‘ لحد پر سے رکاؤٹ کو دور کیا، تو اس نے قبر میں آگ دیکھی۔ پھر وہاں سے وہ آگیا اور اپنی ماں سے آکر دریافت کیا کہ میری بہت کیا کِیا کرتی تھی؟ تو ماں نے جواباً بتایا کہ وہ اپنے اہلِ پڑوس کے دروازوں پر جا کر کان لگا کر ان کی گفتگو کو سنتی اور پھر لوگوں سے چغلی کیا کرتی تھی۔ تو اب معلوم ہوگیا ہے کہ وہ کیوں عذاب میں ہے۔
پس عذابِ قبر سے جو محفوظ رہنا چاہے، اس کو غیبت و چغلی سے خود کو بچانا چاہیے۔ (مُکاشۃ القلوب، از: امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ)




تبصرہ کیجئے