615 total views, 1 views today

تاریخ شاہد ہے کہ اُمتِ مسلمہ پر جب اور جہاں بھی کٹھن اور بر وقت آیا اور کبھی یہ آزمائش سے دوچار ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے اُس کی رہنمائی اور دلجوئی کے لیے عظیم شخصیات بھیجیں، جنہوں نے مسلمانوں کا بیڑا پار لگانے کی بھر پور کوششیں کیں۔ دورِ غلامی ہو، فتنہ تاتار ہو، فتنۂ قادیانیت ہو یا فتنۂ دینِ الٰہی، ان مردانِ پُرعزم نے حالات کا حوصلہ مندی اور جرأت سے مقابلہ کیا۔ مہدی سوڈانی ہو، حسن البنا ہو، محمد بن عبدالوہاب، شیخ الہند ہو یا سید جمال الدین وغیرہ، ان عظیم انسانوں نے بے خوف ہوکر حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس طرح برصغیر پاک و ہند میں جب بھی اسلام اور مسلمانوں پر برا وقت آیا، تو علمائے حق اور مردانِ حریت نے میدان میں نکل کر اسلام دشمن قوتوں کا بے جگری سے مقابلہ کیا، انگریز سامراج سے لڑے، اس راہ میں قید و بند اور جلاوطنی کی صعوبتیں جھیلیں، یہاں تک کہ حق کی خاطر اپنی جانوں تک کا نذرانہ پیش کیا۔ مردانِ حق آگاہ کے اس قافلہ میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا مقام اور کردار تاریخ کے ماتھے پر روشن چراغ کی طرح جگمگاتا رہے گا۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاری 1891ء کو بروزِ جمعہ بمقام پٹنہ سید ضیاء اللہ بخاری کے ہاں پیدا ہوئے۔ سلسلۂ نسب چھتیسویں پشت پر حضرت امام حسینؓسے ملتا ہے۔ حصولِ علم کے بعد شاہ جی نے جوانی ہی میں سیاسی اور سماجی میدان میں قدم رکھا تھا اور مسلم اُمہ، خصوصاً مسلمانانِ ہند کے مسائل کو بڑی دکھ کے ساتھ محسوس کیا تھا۔ 1918ء میں تحریکِ خلافت میں حصہ لے کر اس میں بھر پور کردار ادا کیا جس کی پاداش جیل چلے گئے۔ حصولِ آزادی کی راہ میں شاہ جی نے کئی مرتبہ قید سخت کی تکالیف جھیلیں۔ عقیدۂ تحفظِ ختمِ نبوت اور تحریک آزادی کی جدوجہد میں آپ نے مجموعی طور پر 18 برس قید کاٹی۔ آپ ایک سحر آفریں اور شعلہ نوا مقرر تھے۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے آپ کو ’’اسلام کی ننگی تلوار‘‘ سے یاد کیا۔ حضرت احمد علی لاہوری فرمایا کرتے تھے کہ شاہ جی بہت بڑے اولیاء اللہ میں سے ہیں۔ خواجہ حسن نظامی فرماتے کہ شاہ جی کو دیکھ کر قرونِ اولیٰ کے مسلمان یاد آتے ہیں۔ آغا شورش کاشمیری فرمایا کرتے کہ اگر شاہ جی صحابہ کرام کے دور میں ہوتے، تو ان کا شمار جلیل القدر صحابہ ؓ میں ہوتا۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاری جھکنے اور نہ بکنے والی شخصیت تھے۔ آپ صحابہ کرام ؓ کی زندگی کا عملی نمونہ تھے۔ ہمیشہ اہلِ اقتدار اور امرا کی مجالس سے دور رہنے کی کوشش کی اور کبھی دنیاوی جاہ و جلال کی پروا نہ کی۔ تا دمِ آخر سادہ اور معمولی زندگی بسر کی۔ آپ چار سال فالج میں مبتلا رہنے کے بعد 21 اگست 1961ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ آپ کی زندگی عام مسلمانوں اور خصوصاً اہل وطن کے لیے قابلِ تقلید نمونہ ہے۔ "خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طنیت را”

……………………………………………………

 لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے