376 total views, 1 views today

قربانی ہر مسلمان پر واجب ہے جو عاقل، بالغ اور مقیم ہو، اور اُس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی قیمت کا مال ہو، اور اس کی ضرورتِ اصلیہ سے زائد ہو، اور یہ مال خواہ سونا چاندی یا اس کے زیورات ہوں، یا مالِ تجارت ہو یا ضرورت (حاجت) سے زائد گھریلو سامان ہو۔ جو سال میں ایک مرتبہ بھی استعمال نہ ہوتا ہو، یا رہائش کے مکان سے زائد مکانات اور جائیدادیں وغیرہ ہوں، قربانی کے لیے اس مال پر سال گزرنا بھی شرط نہیں، نہ اس کا تجارتی ہونا شرط ہے۔ اگر کوئی شخص قربانی کے تین دنوں میں سے آخری دن بھی کسی صورت سے مال کا مالک ہوجائے، تو اس پر بھی قربانی واجب ہے۔
مسئلہ: صاحبِ نصاب شخص پر ایک ہی قربانی واجب ہوتی ہے۔
مسئلہ: اگر کسی پر قربانی واجب ہو اور وہ قرض لے کر قربانی کرے ناجائز ہے۔ اگر قربانی واجب نہ ہو اور قرض لے کر قربانی کرے، تو بہتر نہیں۔ اگر چہ جائز ہے۔
مسئلہ: جس شخص پر قربانی واجب تھی۔ اگر اس نے قربانی کے لیے جانور خرید لیا، پھر وہ جانور گم ہوگیا یا چوری ہوگیا یا مرگیا، تو واجب ہے کہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے۔ اگر دوسری قربانی کرنے کے بعد پہلا جانور مل گیا، تو بہتر ہے کہ اس کی بھی قربانی کردے۔ اگر صاحبِ نصاب کے ساتھ یہ مسئلہ پیش آجائے، تو اس پھر دونوں میں سے ایک کی قربانی لازم ہے۔ اگر غریب کے ساتھ یہ مسئلہ پیش آئے (وہ جو صاحب نصاب نہ ہو)، تو اس پر دونوں جانوروں کی قربانی واجب ہے۔ اس لیے کہ غریب آدمی جب کوئی جانور قربانی کی نیت سے خریدتا ہے، تو نذر کے حکم میں ہوجاتا ہے جس کا پورا کرنا واجب ہے۔ لہٰذا دونوں جانوروں کو قربان کرے گا (کفایت المفتی)
مسئلہ: جس طرح مَردوں پر قربانی واجب ہے، اسی طرح عورتوں کے ذے بھی قربانی واجب ہے۔ بشرط یہ کہ ان کے پاس ذاتی زیورات ہوں یا اتنا مال یا جائیداد ہو جو نصاب کے برابر ہو۔
٭ قربانی کے جانور کے احکام:۔ بکرا، ایک سال، گائے، بیل، بھینس دو سال، اونٹ پانچ سال، دنبہ، بھیڑ ایک سال، البتہ اگر دنبہ یا بھیڑ چھے ماہ کا ہو لیکن اتنا موٹا تازہ ہو کہ اگر سال بھر والے بھیڑ دنبوں میں چھوڑدیا جائے، تو کوئی فرق معلوم نہ ہوتا ہو اور سال بھر کا معلوم ہوتا ہو، تو ایسے بھیڑ اور دنبہ کی قربانی درست ہے۔ (ھندیہ)
قربانی کا افضل جانور وہ ہے جو صحت مند ہو، خوبصورت ہو، بے عیب ہو، خصی ہو۔ (سنن ابن ماجہ)
٭ وہ جانور جن کی قربانی ناجائز ہے:
٭ سینگ:۔ جڑ سے اکھڑ گیا ہو کہ اندر کی مینک بھی باقی نہ ہو (ھندیہ)
٭ دماغ:۔ بالکل باؤلا ہو کہ باؤلے پن کی وجہ سے کھاپی نہیں سکتا ہو۔ (ھندیہ)
٭ آنکھ:۔ بالکل اندھا ہو، بالکل کانا ہو یا ایک آنکھ کی تہائی روشنی یا اس سے زیادہ رہ جاتی ہو۔ (شامی)
٭ کان:۔ پیدائشی طور پر دونوں کان یا ایک کان نہ ہو، یا ایک کان ایک تہائی یا اس سے زائد کٹا ہوا ہو۔ (ھندیہ)
٭ ناک:۔ ناک بالکل کٹ گئی ہو یا ایک تہائی یا اس سے زائد کٹ گئی ہو۔ (ھندیہ)
٭ دانت:۔ دانت بالکل نہ ہوں، اکثر نہ ہوں، بالکل گھس گئے ہوں کہ گھاس کھانے کی قدرت بھی نہ ہو۔(شامی)
٭ زبان:۔ زبان اتنی کٹی ہوئی ہو جس کی وجہ سے چارہ وغیرہ نہ کھاسکے۔ (ھندیہ)
٭ دُم:۔ دُم پیدائشی طور پر ہی نہ ہو۔ دُم تو تھی، مگر مکمل کٹ گئی ہو یا ایک تہائی یا اس سے زائد کٹی ہوئی ہو۔ (شامی)
٭ ٹانگ:۔ لنگڑا ہو، تین پاؤں پر چلتا ہو، چوتھا پاؤں زمین پر رکھتا ہی نہ ہو یا رکھتا تو ہو، مگر چلنے میں اُس پاؤں کا سہارا نہ لیتا ہو۔
٭ جلد:۔ جلد ایسی خارشی ہوکہ جس کا اثر گوشت تک پہنچ گیا ہو اور بالکل لاغر ہوگیا ہو۔ (شامی)
٭ تھن:۔ اونٹی، گائے، بھینس کے دو یا دو سے زیادہ تھن کٹ گئے ہوں۔ بکری یا بھیڑ کا ایک تھن یا دونوں کٹ گئے ہوں۔ (ھندیہ)
٭ بال:۔ کھال جل گئی ہو اور اس کا اثر گوشت تک پہنچ گیا ہو۔
٭ وہ جانور جن کی قربانی جائز ہے:
٭ پیدائشی طور پر سینگ ہی نہ ہوں یا بیچ سے ٹوٹ گیا ہو۔ (ھندیہ)
٭ باؤلا ہے لیکن کھا پی سکتا ہے۔ (ھندیہ)
٭ ایک آنکھ کی ایک تہائی سے کم روشنی جاتی رہی ہو۔ (شامی)
٭ پیدائشی طور پر چھوٹے چھوٹے کان ہوں یا کان لمبائی میں چیرا ہوا ہو یا منھ کی طرف سے پھٹ گیا ہو اور لٹکا ہوا ہو۔ (شامی)
٭ اکثر دانت موجود ہوں۔
٭ دُم ایک تہائی سے کم کٹی ہوئی ہو۔ (ھندیہ)
٭ ناک ایک تہائی سے کم کٹی ہوئی ہو۔ (ھندیہ)
٭ زبان اتنی کٹی ہوئی ہو کہ چارا کھاسکتا ہو۔ (ھندیہ)
٭ ٹانگ ایک پاؤں سے لنگڑا تو ہے، لیکن چلنے میں اس کا سہارا لیتا ہے۔
٭ جلد پر معمولی خارش ہو۔ ران وغیرہ پر لوہے سے داغ دیا گیا ہو یا مارنے کی وجہ سے کوئی نشان یا زخم پڑ گیا ہو۔ (ھندیہ)
٭ بال کاٹ دیے گئے ہوں۔ اگر بال جل گئے اور اس کا اثر صرف کھال کے اوپر تک ہو، باقی اعضا سالم ہوں، تو جائز ہے۔
مسئلہ: غریب آدمی نے قربانی کی نیت سے کوئی جانور خریدا پھر وہ جانور عیب دار ہوگیا، تو غریب آدمی اسی جانور کی قربانی کرے اور اگر خریدار امیر، صاحبِ نصاب ہو، تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں۔ (شامی)
مسئلہ: اگر ذبح کے وقت تڑپنے، گورنے کی وجہ سے عیب دار ہوگیا، تو قربانی جائز ہے۔
قربانی کے جانور میں یہ چیزیں حرام ہیں: بہتا خون، نر جانور کی پیشاب گاہ، مادہ جانور کی پیشاب گاہ، خصیتین (کپورے)، مثانہ، غدود (خون جم ہوکر گٹھلی کی صورت میں ہوتا ہے) (ھندیہ)
مذکورہ بالا اشیا کو کھانا اور کھلانا ناجائز اور گناہ ہے۔ ان اشیا کے علاوہ باقی اجزا کا استعمال جائز ہے۔ (اوجھڑی) کھانا بھی حلال ہے، اگر خوب پاک صاف کرکے کھائی جائے تو۔
٭ قربانی کی کھال کے احکام و مصرف:
مسئلہ: قربانی کی کھال اپنے اور اپنے اہل و عیال کے استعمال میں لانا جائز ہے۔ مثلاً جائے نماز، کتابوں کی جلد، دسترخوان وغیرہ کوئی بھی چیز بناکر بلا کراہت استعمال کرنا جائز ہے۔
مسئلہ: قربانی کی کھال یا کھال سے بنی ہوئی چیز کسی کو گفٹ کردی جائے، خواہ وہ سید ہو یا مال دار ہو یا اپنے والدین ہوں یا کافر ہو، ہر ایک کو بلا معاوضہ گفٹ کرنا جائز ہے۔
مسئلہ: قربانی کی کھال فقرا و مساکین کو خیرات میں بھی دی جاسکتی ہے۔
مسئلہ: قربانی کی کھال گوشت، چربی، آنتیں وغیرہ کا کوئی بھی جذ کسی کو خدمت کے معاوضہ میں دینا جائز نہیں۔ اگر دے دیا، تو اس کا صدقہ کرنا واجب ہے (بعض اوقات قصاب کو کھال اجرت میں دی جاتی ہے، یہ جائز نہیں)
مسئلہ: قربانی کی کھال امام، مؤذن کو بھی حق الخدمت کے طور پر دینا جائز نہیں۔
مسئلہ: مدارس اسلامیہ کے طلبہ ان کھالوں کا بہترین مصرف ہیں کہ اس میں صدقہ کا ثواب بھی ہے اور احیائے علمِ دین بھی ہے۔ لہٰذا کھال ایسے مدارس کو دے سکتے ہیں جن میں قیام و طعام کا انتظام ہو۔
مسئلہ: اگر کھال کو فروخت کیا جائے، تو اس کی قیمت فقرا و مساکین کو دی جائے۔
مسئلہ: قصاب کو اجرت میں کھال یا گوشت دینا جائز نہیں بلکہ ان کو اجرت میں پیسے دیے جائیں۔
مسئلہ: کسی شخص نے مرنے سے پہلے قربانی کی وصیت کی ہو اور اتنا مال چھوڑا ہو کہ اس کے تہائی مال سے قربانی کی جاسکے، تو اس کی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے۔
مسئلہ: ایک شخص ملازم ہے، اس کی ماہانہ تنخواہ سے اس کے اہل و عیال کی گزر بسر ہوسکتی ہے اور اس کے پاس کوئی اور مالیت نہ ہو، تو اس پر قربانی واجب نہیں۔
مسئلہ: ایک شخص صاحبِ نصاب نہیں، نہ اس پر قربانی واجب ہے، لیکن اس نے شوق سے قربانی کا جانور خریدلیا، تو قربانی واجب ہوگی۔
مسئلہ: ایک شخص نے قربانی کا جانور باندھ رکھا تھا، مگر کسی عذر کی بنا پر قربانی کے دنوں میں ذبح نہیں کرسکا، تو اس کا اَب صدقہ کردینا واجب ہے۔ ذبح کرکے گوشت کھانا درست نہیں۔
مسئلہ: جس شخص پر قربانی واجب تھی اور ان تین دنوں میں اس نے قربانی نہیں کی، تو اس کے بعد قربانی کرنا درست نہیں۔ اس شخص کو توبہ استغفار کرنی چاہیے اور قربانی کے جانور کی مالیت صدقہ خیرات کردے۔
مسئلہ: جس شخص پر قربانی واجب ہو، اس کا اپنی طرف سے قربانی کرنا لازم ہے۔ اگر گنجائش ہو، تو مرحوم والدین وغیرہ کی طرف سے الگ قربانی دے اور اگر خود صاحبِ نصاب نہیں اور قربانی اس پر واجب نہیں، تو اختیار ہے کہ خواہ اپنی طرف سے کرے یا والدین کی طرف سے۔
مسئلہ: اگر میاں بیوی دونوں صاحبِ نصاب ہوں، تو دونوں کے ذمہ الگ الگ قربانی واجب ہے۔ اسی طرح اگر باپ بھی صاحبِ نصاب ہو اور اس کے بیٹے بھی بر سرِ روزگار اور صاحب نصاب ہوں، تو ہر ایک کے ذمہ الگ الگ قربانی واجب ہے۔
نوٹ:۔ بہت سے گھروں میں یہ دستور ہے کہ قربانی کے موقع پر گھرانے کے بہت سے افراد کے صاحبِ نصاب ہونے کے باوجود ایک قربانی کرلیتے ہیں۔ کبھی شوہر کی نیت سے، کبھی بیوی کی طرف سے اور کبھی مرحومین کی طرف سے۔ یہ دستور غلط ہے بلکہ جتنے افراد مالکِ نصاب ہوں ان سب پر قربانی واجب ہوگی۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد نمبر)
٭ آداب قربانی:
قربانی کے جانور کو چند روز سے پہلے پانا افضل ہے۔ قربانی کے جانور کا دودھ نکالنا یا اس کے بال کاٹنا جائز نہیں۔ اگر کسی نے ایسا کرلیا، تو دودھ اور بال یا ان کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے۔
قربانی سے پہلے چھری کو خوب تیز کرلیں اور ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح نہ کریں اور ذبح کے بعد کھال اتارنے اور گوشت کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں جلدی نہ کریں۔ جب تک جانور پوری طرح ٹھنڈا نہ ہوجائے۔ (بدائع)
٭ قربانی کا مسنون طریقہ:
اپنی قربانی کو خود اپنے ہاتھوں سے ذبح کرنا افضل ہے۔ اگر خود ذبح کرنا نہیں جانتا، تو دوسرے سے بھی ذبح کرسکتا ہے، مگرذبح کی وقت وہاں خود بھی حاضر رہنا افضل ہے۔ قربانی کی نیت صرف دل سے کرنا کافی ہے۔
ذبح کرتے وقت بسم اللہ، اللہ اکبر کہنا ضروری ہے۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل)

……………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے