601 total views, 1 views today

ذی الحجہ کا مہینہ شروع ہونے والا ہے۔ یہ عشرہ یکم ذی الحجہ سے شروع ہوتا ہے اور دس ذی الحجہ پر اس کی انتہا ہوتی ہے۔ یہ سال کے بارہ مہینوں میں بڑی ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ پارہ عَمَّ میں سورۂ فجر کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے، اس سے ان دس راتوں کی عزت، عظمت اور حرمت کی نشان دہی ہوتی ہے اور خود نبی کریمؐ نے ایک ارشاد میں واضح طور پر ان دس ایام کی اہمیت اور فضیلت بیان فرمائی ہے۔ یہاں تک فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو عبادت کے اعمال کسی دوسرے دن میں اتنے محبوب نہیں ہیں، جتنے ان دس دنوں میں محبوب ہیں۔ خواہ وہ عبادات نفلی ہوں، ذکریا تسبیح ہوں یا صدقہ و خیرات ہوں۔
ذی الحجہ کا چاند دیکھتے ہی جو حکم سب سے پہلے ہم پر لازم ہوجاتا ہے، وہ ایک عجیب و غریب حکم ہے۔ یہ کہ نبی کریمؐ کا ارشاد ہے کہ جب تم میں سے کسی کو قربانی کرنی ہو، تو جس وقت وہ ذی الحجہ کا چاند دیکھے، اس کے بعد اس کے لیے بال کاٹنا اور ناخن کاٹنا درست نہیں۔ اس عمل کو مستحب قرار دیا گیا ہے۔ اگر کسی نے کرلیا، تو بہتر ہے۔ اگر نہ کیا، تو قربانی میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔ یعنی قربانی درست ہے۔ یہ حکم صرف ان لوگوں کے لیے ہے، جو قربانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اگر کسی کا قربانی کا ارادہ نہ ہو، تو یہ حکم اس کے لیے نہیں۔
دوسری چیز یہ کہ ان ایام میں یک روزہ ثواب کے اعتبار سے ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور ایک رات کی عبادت شب قدر کی عبادت کے برابر ہے۔ اس سے اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ایک مسلمان جتنا بھی ان ایام میں نیک اعمال اور عبادات کرسکتا ہے، وہ ضرور کرے۔ اس طرح نو ذی الحجہ کا دن عرفہ کا دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے حجاج کے لیے حج کا عظیم الشان رکن یعنی وقوفِ عرفہ تجویذ فرمایا اور ہمارے لیے خاص اس نویں تاریخ کو نفلی روزہ مقرر فرمایا۔ اس روزے کے بارے میں نبی کریمؐ نے فرمایا کہ عرفہ کے دن جو شخص روزہ رکھے، تو مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے یہ امید ہے کہ اس کے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ (ابن ماجہ حدیث نمبر 1734)
ان ایام میں تیسرا عمل تکبیرِ تشریق ہے جو عرفہ کے دن نمازِ فجر سے شروع ہوکر 13 تاریخ کی عصر تک جاری رہتا ہے۔ اور یہ تکبیر ہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ بلند آواز سے پڑھنا واجب ہے۔ وہ تکبیر یہ ہے ’’اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔‘‘ مردوں کے لیے اِسے متوسط بلند آواز سے پڑھنا واجب ہے اور آہستہ آواز سے پڑھنا خلاف سنت ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج م ص 171)
یہ تکبیرِ تشریق خواتین کے لیے بھی مشروع ہے اور اس میں عام طور پر بڑی کوتاہی ہوتی ہے۔ خواتین کو یہ تکبیر پڑھنا یاد نہیں رہتا۔ اُن میں اس کا رواج بہت کم ہے۔ عورتیں بھی پانچ روز تک یومِ عرفہ کی فجر سے 13 تاریخ کی عصر تک ہر نماز کے بعد یہ تکبیر پڑھیں۔ خواتین کو آہستہ آواز سے کہنا چاہیے، لہٰذا خواتین کو بھی اس کی فکر کرنی چاہیے۔ اس لیے میں کہا کرتا ہوں کہ خواتین گھر میں جس جگہ نماز پڑھتی ہیں، وہاں یہ دعا لکھ کر لگائیں، تاکہ ان کو یہ تکبیر یاد پڑ جائے اور سلام کے بعد فوراً کہہ لیں۔
چوتھا اور سب سے افضل عمل جو اللہ تعالیٰ نے ایامِ ذی الحجہ میں مقرر فرمایا ہے، وہ قربانی کا عمل ہے۔ یہ عمل صرف ذی الحجہ کی 11,10اور 12تاریخ کو انجام دیا جاسکتا ہے۔
قارئین، قربانی کے معنی ہیں، اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی چیز، تو قربانی کے معنی یہ ہیں کہ وہ چیز جس سے اللہ کا تقرب حاصل کیا جائے۔ اس قربانی کے سارے عمل میں یہ سکھایا گیا ہے کہ ہمارے حکم کی اتباع کا نام دین ہے۔ جب ہمارا حکم آجائے، تو اس کے بعد عقلی گھوڑے دوڑانے کا موقع ہے، نہ ایسی حکمتیں اور مصلحتیں تلاش کرنے کا موقع باقی رہتا ہے اور نہ اس میں چوں و چرا کرنے کا موقع ہے۔ ایک مؤمن کا کام یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے حکم آجائے، تو اپنا سر جھکادے اور اس حکم کی اتباع کرے۔
آج ہمارے معاشرے میں جو گمراہی پھیلی ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں حکمت تلاش کرو کہ اس کی حکمت اور مصلحت کیا ہے اور اس کا عقلی فائدہ کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر عقلی فائدہ نظر آئے گا، تو کریں گے اور اگر فائدہ نظر نہیں آئے گا، تو نہیں کریں گے۔ یہ کوئی دین ہے، کیا اس کا نام اتباع ہے؟ اتباع تو وہ ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کرکے دکھایا، ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کرکے دکھایا اور اللہ تعالیٰ کو ان کا یہ عمل اتنا پسند آیا کہ قیامت تک کے لیے اس کو جاری کردیا۔

……………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے