799 total views, 1 views today

مسجد میں اعتکاف کے نیت سے ٹھہرنے کو ’’اعتکاف‘‘ کہتے ہیں۔ اعتکاف کی تین قسمیں ہیں۔ واجب، سنت اور نفل۔ زیرِ بحث موضوع اعتکاف سنت ہے۔
یہ رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں ہوتا ہے۔ حضور ؐ کی عادتِ مبارکہ بھی اسی دنوں میں اعتکاف کرنے کی تھی۔ اعتکاف سے ہر مسلمان واقف ہے کہ رمضان کے آخری دس دن مسجد میں اعتکاف کی نیت بیٹھا جاتا ہے۔ اعتکاف کی فضیلت اور ثواب بہت زیادہ ہے۔ اس سے بڑھ کر فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے کہ حضورؐ نے خود اعتکاف کا اہتمام کیا ہے۔ اعتکاف کرنے والا اس شخص کی طرح جو کسی کے دربار میں گر پڑے کہ جب تک میری درخواست قبول نہ کی جائے، میں اسی طرح پڑا رہوں گا، تو معتکف بھی دنیا چھوڑ دیتا ہے اور اللہ کے دربار میں گرتا ہے۔ بقولِ شاعر
نکل جائے دم تیرے قدموں کے نیچے
یہی دل کی حسرت یہی آرزو ہے
اعتکاف کا اصل مقصد اور روح یہ ہے کہ بندہ صرف اللہ کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرے۔ ساری مصروفیات ترک کرکے اللہ کے ساتھ مشغول ہوجائے۔ سارے تعلقات قطع کرکے صرف اللہ سے تعلق قائم کرے۔ سارے خیالات کو ترک کرکے صرف اللہ کے ذکر اور محبت میں لگ جائے۔ مخلوق کی بجائے اللہ سے محبت پیدا ہو جائے، تو اللہ کی یہ محبت اس دن کام آئے گی جس دن اللہ کے سوا کوئی محبت کرنے والا نہ ہوگا۔ اگر اعتکاف اخلاص کے ساتھ کیا جائے، تو یہ سب سے بہتر عمل ہے۔ اعتکاف میں بندہ ہر وقت عبادت میں مشغول رہتا ہے۔ بندہ کا خواب بھی عبادت میں حساب ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے روایت ہیں کہ حضورؐ نے اعتکاف کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ معتکف گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور ان کے لیے نیکیاں اس طرح لکھی جاتی ہیں جس طرح کرنے والوں کے لیے لکھی جاتی ہیں (مشکوۃ)۔
مذکورہ حدیث میں اعتکاف کے دو اہم فائدے ذکر کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ اعتکاف کرنے والا گناہوں سے محفوظ رہتا ہے۔ کیوں کہ مسجد میں رہ کر گناہ کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ دوسرا یہ کہ بہت سے نیک اعمال ایسے ہیں کہ معتکف وہ ادا نہیں کرسکتا، جیسے جنازہ میں شرکت، مریض کی عیادت وغیرہ لیکن ان اعمال کا ثواب مفت میں معتکف کو ملتا ہے۔
علامہ شعرانی رحمتہ اللہ نے کتاب کشف الغمہ میں حضورؐ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص رمضان کے مہینے میں آخری دس دن اعتکاف میں گزارے، تو اس کے لیے سات حج اور سات قبول عمروں کا ثواب لکھا جاتا ہے، اور جو کوئی ایسی مسجد میں جس میں پانچ وقت نماز ادا ہوتی ہو، مغرب سے عشا تک اعتکاف کرے جس میں ذکر و اذکار کے سوا کسی سے کوئی باتیں نہ کرے، تو اس کے لیے جنت میں ایک محل تیار کیا جاتا ہے۔
عورتوں کے لیے بھی اعتکاف کرنا سنت ہے۔ان کا اعتکاف نسبتاً آسان ہے۔ گھر میں ایک جگہ مختص کی جائے، جہاں وہ بیٹھے بیٹھے گھر کا کام بھی کرسکتی ہیں۔ اللہ ہم کو توفیق عطا فرمائے۔

……………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے