779 total views, 1 views today

ماہِ صیام کی تمام اقدار اہلِ ایمان کے لیے عملی زندگی میں رہنمائی کی کامل تعلیمات کی حامل ہیں۔ اس ماہِ مبارک کے تینوں عشروں کی اپنی اپنی برکات اور انعامات ہیں، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ایمان کا دعویٰ کرتے اور ایک اسلامی معاشرے میں رہتے ہوئے ہم اسلامی تعلیمات سے اغماض برتتے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، دھوکا دہی، دو نمبریت اور باسی و ملاوٹی اشیا کی فروخت ان تینوں عشروں میں عروج کو پہنچ جاتی ہے۔ بے ایمانی و حرام کی کمائی اور وہ بھی رمضان کے مقدس مہینے میں، خدا کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں ایک عبرت ناک واقعہ پیش آیا ہے، جو قارئین کی نذر ہے، جو علامہ بیہقی نے لکھا ہے:
’’چند ساتھی سفرِ حج پر جارہے تھے، جب یہ لوگ مدینے پہنچے، تو ان میں سے ایک ساتھی بقضائے الٰہی فوت ہوا۔ فیصلہ ہوا کہ فوت شدہ ساتھی کو یہیں دفن کریں گے۔ دوست کفن دفن کے انتظام میں مصروف ہوگئے۔ قبر تیار ہوئی۔ جنازہ پڑھانے کے بعد جب مردے کو دفنانے کے بعد قبر میں لایا گیا، تو قبر میں ایک بڑا سانپ (اژدر) پڑا تھا۔ انہوں نے فوراً قبر کو بند کردیا۔ دوسری جگہ قبر کھودی گئی، جب قبر تیارہوئی اور مردے کو لایا گیا، تو وہاں بھی وہی اژدر پڑا تھا۔ اسی طرح تیسری قبر میں بھی وہی اژدر پڑا تھا۔ یہ لوگ حیران ہوئے اور مدینے میں عبداللہ ابن عباسؓ سے ملاقات کی اور یہ واقعہ سنایا، تو انہوں نے فرمایا کہ خدا کی قسم اگر سیکڑوں جگہ بھی اس کے لیے قبر کھودوگے، تو یہ حالت ہوگی۔ بس یہ اس کا عمل ہے اور اسے یہیں دفن کر دیں۔ ساتھیوں نے حج ادا کی اور فوت شدہ ساتھی کے علاقے میں آئے اور اس کے رشتہ داروں اور دوستوں کو اس کی موت کی خبر دی۔ پھر ان لوگوں سے استفسار کیا کہ مردے کا خاص عمل کیا تھا جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا؟ تو فوت شدہ شخص کی بیوی نے کہا کہ میرا شوہر غلے، دانے اور آٹے کا کاروبار کرتا تھا۔ اس کا عمل یہ تھا کہ ہر بوری میں سے خاص مقدار میں اناج نکالتا اور اسی مقدار کے برابر بوریوں میں بھوسہ اور چوکر وغیرہ ڈالتا، تاکہ وزن برابر ہو اور پھر اسے بیچتا۔ مطلب یہ کہ کم تولتا یعنی ملاوٹ اور بے ایمانی کرتا۔‘‘
قارئین، فکر کا مقام ہے کہ آج ملاوٹ، کم تول اور دھوکا دہی ہمارے معاشرے میں عام ہوچکے ہیں، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم کاروبار (خصوصاً رمضان کے مقدس مہینے) میں ایسے کاموں سے بچیں۔

………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے