702 total views, 1 views today

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی صفات میں سے ایک صفت یہ بیان فرمائی کہ مومن لوگ غصہ کو پی جانے والے ہوتے ہیں، لوگوں کو معاف کردینے والے ہوتے ہیں اور اللہ ایسے نیکوں کاروں سے محبت فرماتے ہیں۔
معاف کردینے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے۔ انتقام لینے سے عزت ہر گز نہیں بڑھتی۔ گذشتہ نشست میں یہ ذکر کیا گیا تھا کہ حضورؐ مکہ مکرمہ میں فاتح بن کر داخل ہورہے ہیں۔ جب انسان کسی پر کنٹرول پاتا ہے، تو وہ عام طور پر دو کام کرتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ مخالفین کو کچل کے رکھ دیتا ہے اور دوسرا یہ کہ وہ اپنے متعلقین کو خوب نوازتا ہے۔ آج دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جس کو بھی پاؤر ملتی ہے، وہ یہ دو کام ضرور کرتا ہے، لیکن نبی کریمؐ نے ان دونوں چاہتوں کو پورا نہیں کیا اور عام معافی کا اعلان فرمایا۔
ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن منادی اعلان کرے گا کہ جس انسان کا اللہ کے ذمے حق ہے، اُسے چاہیے کہ وہ کھڑا ہوکر اور بغیر حساب کتاب جنت میں داخل ہوجائے۔ پوچھا گیا کہ وہ کون لوگ ہوں گے؟ میرے حضورؐ نے فرمایا جو لوگ دنیا میں اللہ کے لیے لوگوں کو معاف کرنے والے ہوں گے، ان کا اللہ پہ حق ہوگا۔ یہی لوگ کھڑے ہوں گے اور بغیر حساب کتاب جنت میں داخل کردیے جائیں گے۔ اس لیے جو آدمی غلطی کرنے کے بعد آکر کہے کہ بھئی! مجھے اللہ کے لیے معاف کردو، تو معاف کردیا کریں۔
ایک حدیث میں ہے کہ جو کسی انسان کی لغزش سے دنیا میں درگزر کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی لغزشوں سے درگزر فرمائے گا۔




ایک صحابی نے اللہ کے محبوبؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا۔ اے اللہ کے نبیؐ، مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجیے جس کے کرنے سے مجھے جنت مل جائے۔ آپؐ نے فرمایا غصہ نہ کیا کر۔ (Photo: islamonline.net)

حضورؐ نے فرمایا: سب سے بدترین انسان وہ ہوتا ہے جو کسی کی لغزش کو معاف نہ کرے اور کسی کی معذرت کو قبول نہ کرے۔ چلیں، ذرا ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا ہم کسی کی معذرت قبول کرتے ہیں؟
ایک مرتبہ امام حسین ؓ نے فرمایا کہ اگر کوئی بندہ میرے ایک کان میں گالی نکالے اور دوسرے کان میں معافی مانگ لے، تو میں اسی وقت اس کے گناہ کو معاف کردوں گا۔
ایک مرتبہ امام زین العابدین ؒ نے ایک شخص کو دیکھا جو ان کی غیبت کررہا تھا، آپ نے اسے فرمایا: ’’اے دوست! اگر تو سچا ہے، تو خدا مجھے بخش دے اور اگر تو جھوٹا ہے، تو خدا تجھے بخش دے۔‘‘ ایک اور شخص نے ان کی غیبت کی، تو آپ نے اسے فرمایا: ’’اے دوست! جتنا تجھے میرے عیبوں کا پتا ہے، اس سے بہت زیادہ عیب ایسے ہیں جن کا ابھی تجھے پتا ہی نہیں ہے۔‘‘ اس کے بعد آپ نے اس بندے کو ایک ہزار دینار ہدیہ کے طور پر پیش کیے۔ جب اس بندے نے آپ کا یہ حسنِ سلوک دیکھا تو اُسے شرم آئی۔ چناں چہ اس نے معافی مانگی اور کہنے لگا کہ میں تصدیق کرتا ہوں کہ آپ نواسۂ رسولؐ کے بیٹے ہیں۔
ایک مرتبہ ایک شخص حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کو ذہنی اذیت دینے کے لیے مجمع میں کہنے لگا۔ آپ کی والدہ بیوہ ہیں۔ آپ ان کا میرے ساتھ نکاح کردیں، تو امام صاحب نے فرمایا، چلو ٹھیک ہے۔ میری ماں سے پوچھتے ہیں، اگر وہ راضی ہیں، تو مجھے کوئی اشکال نہیں۔ جب امام صاحب نے پیچھے دیکھا، تو وہ شخص مرا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: ’’اسے میرے صبر نے قتل کیا۔‘‘
سیدہ عائشہؓ روایت فرماتی ہیں کہ جب کبھی ازواجِ مطہرات کی باتوں کی وجہ سے میرے اندر حمیت آجاتی اور غصہ آجاتا، تو کبھی نبی کریمؐ میرا کان پکڑ کر اس کو پیار سے آہستہ آہستہ ملتے اور کبھی میری ناک پر انگلی رکھ کر یوں فرماتے: ’’اے منی سے عائشہ! تو یہ دعا پڑھ کہ اے محمدؐ کے رب، میرے گناہ بخش دیجیے، میرے دل کا غصہ دور کردیجیے اور بہکانے والے فتنوں سے مجھے بچالیجیے۔‘‘
ایک صحابی نے اللہ کے محبوبؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا۔ اے اللہ کے نبیؐ، مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجیے جس کے کرنے سے مجھے جنت مل جائے۔ آپؐ نے فرمایا غصہ نہ کیا کر۔
ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ اے موسیٰ، کیا آپ کو ایسا عمل بتاؤں کہ جس کے کرنے سے جن چیزوں پر سورج اور چاند طلوع ہوتے ہیں، وہ سب چیزیں آپ کے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ انہوں نے عرض کیا، ضرورارشاد فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، اگر مخلوقِ خدا سے پہنچنے والی ایذا پر صبر کروگے، تو پھر سب چیزیں تمہاری مغفرت کے لیے دعا کریں گی۔
قارئین کرام! معافی مانگنا اور معاف کرنے میں کوئی شرم نہیں ہے۔ اس سے انسان کی عزت بڑھتی ہے۔ اگر ہم یہ عادت اپنا لیں، تو بہت سے جھگڑے اور فسادات ہمارے معاشرے سے ختم ہوجائیں گے۔
آخر میں غصے کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف طریقے بیان کیے جاتے ہیں۔
سب سے پہلا طریقہ یہ ہے کہ جب آدمی کو غصہ آئے، تو وہ ’’لاحو ل و لا قوۃ الا با اللہ‘‘ پڑھے۔ اگر اس سے بھی غصہ ختم نہ ہو، تو ’’اعوذ بااللہ من الشیطٰن الرجیم‘‘ پڑھے۔ اگر اس سے بھی ختم نہ ہو، تو پوزیشن بدل لے۔ مثلاً اگر لیٹا ہوا ہو، تو اٹھ کر بیٹھ جائے، بیٹھا ہوا ہو، تو کھڑا ہوجائے۔ اگر اس عمل سے بھی غصہ ٹھنڈا نہ ہو، تو پانی پی لے یا پھر ٹھنڈے پانی سے وضو کرلے۔ اگر پھر بھی غصہ ختم نہ ہو، تو حضورؐ پر درود شریف پڑھ لے۔
قارئین کرام! یہ طے شدہ بات ہے کہ چند مرتبہ درود شریف پڑھنے سے اللہ رب العزت غصے سے نجات عطا فرمادیتے ہیں۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین۔

…………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے