250 total views, 1 views today

مجھے بچپن کے وہ دن یاد ہیں جب گھر میں نمازِ جمعہ کی تیاری ہوا کرتی تھی۔ ہم سات بہن بھائی ابا جان کی ہدایت کے مطابق اور کبھی کبھار ڈانٹ ڈپٹ کے ہاتھوں اکثر ہمہ تن بھاگ دوڑ میں لگے رہتے ۔ صحن میں واحد بڑے بے چھت غسل خانہ کے سامنے ہماری لائن لگی ہوتی تھی۔ بھائی جان بڑا ہونے کا “ایڈوانٹیج” لیتے ہوئے پہلے نمبر پر غسل خانہ پر حملہ آور ہوجاتے تھے ۔ باہر دوسرے نمبر والے بڑے بھائی اُن کے بعد جانے کے لیے پر تول رہے ہوتے اور ہم چھوٹے ایک دوسرے سے پہلے جانے کی تگ و دو میں مصروف ہوتے ۔ فضا میں سرف “لایف بوائے ” کی مہک رچی بسی ہوتی تھی جس کی خوشبو “کافور” کی سفید گولیوں کی خوشبو سے مشابہ ہوتی تھی۔ مسجد میں چھوٹے بڑے سب جمع ہوتے اور گاؤں کی گلیاں سنسان ہوجاتیں۔ گھر میں خواتین اور لڑکیاں ہی رہ جاتیں اور یا سات سال سے کم عمر کے بچے ۔ خواتین عموماً مٹی کے تیل کے “اسٹو” (stove) نما چولہے پر دوپہر کے کھانے پکانے میں مصروف ہوتیں اور کھانے کے بعد نماز پڑھا کرتیں۔ آج بھی نماز جمعہ کے لیے اہتمام کیا جاتا ہے ، مسجدوں میں کافی رش ہوتا ہے مگر آبادی کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بہت سے نوجوان اپنی سستی کی وجہ سے نماز میں شریک نہیں ہو پاتے یا جلدی جلدی منھ پر چند چھینٹے مار کر بہ مشکل آخری رکعت میں پہنچ پاتے ہیں۔ حالاں کہ نماز جمعہ کی اہمیت کے پیشِ نظر اس کے لیے اہتمام اور وقت دینے کی بہت ضرورت ہے ۔ اُس سے بھی زیادہ جتنا وقت ہم شادی پے جانے کے لیے تیاری کرتے ہیں۔ اُس سے بھی زیادہ جب ہم میں سے کوئی باہر کے ملک جانے کے لیے تیاری کرتا ہے ۔
حدیث میں آتا ہے کہ ’’میرا جی چاہتا ہے کہ کسی اور شخص کو اپنی جگہ نماز پڑھانے کے لیے کھڑا کردوں اور جاکر ان لوگوں کے گھر جلادوں جو جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے نہیں آتے (مسند احمد، بخاری)۔قرآن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: “اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑدو۔” (الجمعہ آیت ۸) اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ بھاگتے ہوئے آؤ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جلدی سے جلدی وہاں پہنچنے کی کوشش کرو۔ کیوں کہ حدیث میں بھاگ کر نماز کے لیے آنے کی صاف ممانعت وارد ہوئی ہے ۔
حضورؐ نے فرمایا ہے : “جب نماز کھڑی ہو، تو اُس کی طرف سکون اور وقار سے چل کر آؤ۔ بھاگتے ہوئے نہ آؤ، پھر جتنی نماز بھی مل جائے اُس میں شامل ہوجاؤ اور جتنی چھوٹ جائے اُسے بعد میں پورا کرلو۔” (صحاحِ ستہ)




جب نماز کھڑی ہو، تو اُس کی طرف سکون اور وقار سے چل کر آؤ۔ (القرآن)

اگرچہ قرآن میں یومِ جمعہ کو عیسائیوں کے اتوار کی طرح عام تعطیل کا دن قرار دیا گیا ہے مگر یہ بھی سب جانتے ہیں کہ جمعہ بھی اُسی طرح مسلمانوں کا شعارِ ملت ہے ۔ اگر ہفتہ میں کوئی ایک دن عام تعطیل کے لیے مقرر کرنا ایک تمدنی ضرورت ہو، تو جس طرح یہودی اس کے لیے فطری طور پر ہفتہ کو اور عیسائی اتوار کو منتخب کرتے ہیں، اسی طرح مسلمان اگر اس کی فطرت میں کچھ اسلامی حِس موجود ہو، تو اس غرض کے لیے جمعہ ہی کو منتخب کرے گا بلکہ عیسائیوں نے تو دوسرے ایسے ملکوں پر بھی اپنے اتوار کو مسلط کیا جہاں عیسائی آبادی آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ تھی۔
یہودیوں نے جب فلسطین پر قبضہ جمایا، تو اولین کام انھوں نے یہ کیا کہ ہفتہ کو چھٹی کا دن مقرر کیا۔البتہ جہاں مسلمانوں کے اندر اسلامی حِس موجود نہیں ہوتی، وہاں وہ اپنے ہاتھ میں اقتدار آنے کے بعد بھی اتوار ہی کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔

………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے