454 total views, 2 views today

آج کل ہر طرف یہ نظر آ رہا ہے کہ ہر دوسرا اور تیسرا مرد یا عورت موٹاپے کا شکار ہے۔ سب اس سے نجات کے لیے مختلف تدابیر اختیار کرتے ہیں لیکن بے سود۔ کبھی ہم نے اپنے کھانے پینے پر غور نہیں کیا کہ ہم خوراک کس طرح کھاتے ہیں؟ شریعت نے ہم کو جو طریقہ سکھایا ہے، کیا اس کے مطابق ہے یا نہیں؟
تفسیر روح المعانی اور مظہری وغیرہ میں ہے کہ امیر المؤمنین ہارون الرشید کے پاس ایک نصرانی طبیب علاج کے لیے رہتا تھا۔ اس نے علی بن حسین واقد سے کہا کہ تمہاری کتاب یعنی قرآن میں علم طب کا کوئی حصہ نہیں۔ حالاں کہ دنیا میں دو ہی علم ہیں۔ ایک علم ادیان اور دوسرا علم ابدان جس کا نام طب ہے۔ علی بن حسین نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سارے فن طب و حکومت کو آدھی آیت قرآن میں جمع کر دیا ہے۔ وہ یہ کہ ’’ارشاد فرمایا کہ کھاؤ ، پیو لیکن اسراف نہ کرو۔‘‘ پھر اس نصرانی نے کہا کہ اچھا تمہارے رسول ؐکے کلام میں بھی طب کے متعلق کچھ ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ رسولؐ نے چند کلمات میں سارے فنِ طب کو جمع کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ معدہ بیماریوں کا گھر ہے اور مضر چیزوں سے پرہیز ہر دوا کی اصل ہے۔ اور ہر بدن کو وہ چیز دو جس کا وہ عادی ہے۔ نصرانی طبیب نے یہ سن کر کہا کہ تمہاری کتاب اور تمہارے رسول ؐ نے چالیسیویں کے لیے کوئی طب نہیں چھوڑی۔
بیہقی نے شعب الایمان میں براویت ابی ہریرہؓ نقل کیا ہے کہ آنحضرتؐنے فرمیا کہ معدہ بدن کی حوض ہے۔ سارے بدن کی رگیں اسی حوض سے سیراب ہوتی ہیں۔ اگر معدہ درست ہے، تو ساری رگیں یہاں سے صحت مند غذا لے کر لوٹیں گی اور وہ خراب ہے، تو ساری رگیں بیماری لے کر بدن میں پھیلیں گی۔
کم کھانے اور محتاط رہنے کی تاکیدات بے شمار احادیث میں موجود ہیں۔ کھانے پینے میں اعتدال ہی نا فع دین و دنیا ہے اور موٹاپا سے نجات بھی۔
حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا کہ بہت کھانے پینے سے بچو۔ کیوں کہ وہ جسم کو خراب کرتا ہے۔ بیماریاں پیدا کرتا ہے۔ عمل میں سستی پیدا کرتا ہے بلکہ کھانے پینے میں میانہ روی اختیار کرو کہ وہ جسم کی صحت کے لیے بھی مفید ہے اور اسراف سے دور ہے اور فرمایہ کہ اللہ تعالیٰ فربہ جسم کو پسند نہیں فرماتے( مراد یہ ہے کہ جو زیادہ کھانے سے اختیاری طور پر فربہ ہوگیا ہو)۔اور فرمایا کہ آدمی اس وقت تک ہلاک نہیں ہوتا، جب تک کہ وہ اپنی نفسیاتی خواہشات کو دین پر ترجیح نہ دینے لگے۔ (تفسیر معارف القرآن مفتی شفیع رحمتہ اللہ)
اسراف کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنا۔ پھر حد سے تجاوز کرنے کے لیے صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ حلال سے تجاوز کرکے حرام تک پہنچے جائے۔ دوسرا یہ کہ حلال کی ہوئی چیزوں کو بلاوجہ شرعی حرام سمجھ کر چھوڑدے، جس طرح حرام کا استعمال حرام و گناہ ہے۔ اسی طرح حلال کو حرام سمجھنا بھی گناہ ہے۔ (ابن کثیر)
اسی طرح یہ بھی اسراف ہے کہ بھوک اور ضرورت سے زیادہ کھایا پیا جائے۔ پیٹ بھرنے سے زائد کھانے نقصان دہ اور جسم کو فربہ کرنے کا سبب ہیں۔ اسی طرح یہ بھی اسراف کے حکم میں ہے کہ باوجود قدرت و اختیار کے ضرورت سے اتنا کم کھائے جس سے کمزور ہو کر اد ائے واجبات کی قدرت نہ رہے۔ سلف صالحین نے اس بات کو ہی اسراف میں داخل کیا ہے کہ آدمی ہر وقت کھانے پینے ہی کے دھن میں مشغول رہے جس سے یہ سمجھا جائے کہ اس کا مقصدِ زندگی یہی کھا ناپینا ہے۔
حضرات کا مشہور مقولہ ہے کہ ’’خوردن برائے زیستن است نہ زیستن برائے خودن‘‘ یعنی کھانا اس لیے ہے کہ زندگی قائم رہے، یہ نہیں کہ زندگی کھانے پینے ہی کے لیے ہے۔
ایک حدیث میں رسول کریم ؐ نے اس کو بھی اسراف میں داخل فرمایا ہے کہ جب کسی چیز کو جی چاہے، اس کو ضرور ہی پورا کرے۔ (ا بن ماجہ)
اور بیہقی نے نقل کیا ہے کہ حضرت عائشہؓ کو ایک مرتبہ حضورؐ نے دیکھا کہ دن میں دو مرتبہ کھان تناول فرمایا، تو ارشاد فرمایا اے عائشہ! کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ تمہارا شغل صرف کھانا ہی رہ جائے۔( معارف القرآن)
قارئین کرام! اگر قرآن کریم کے اس نسخہ کو مد نظر رکھتے ہوئے کھانے پینے میں میانہ روی اختیار کی جائے اور اس طریقے سے کھانا کھایا جائے جس طریقے سے حضورؐ نے کھایا، تو نہ صرف یہ جسم کو موٹا، فربہ اور سست کرے گا اور نہ موٹاپا سے نجات کے لیے مختلف تدابیر ہی اختیار کی جائیں گی۔ یوں جسم میں بھی مختلف بیماریاں جنم نہیں لیں گی۔
اللہ تعالیٰ کو طاقتور مومن زیادہ پسند ہیں، کمزور اور سست مومن سے۔
اس لیے کھانے پینے میں اعتدال ساری بیماریوں سے امان ہے۔

………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے