395 total views, 1 views today

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمؐ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا تذکرہ فرمایا جس نے بنی اسرائیل کے ایک دوسرے شخص سے ایک ہزار دینار قرض مانگا۔ قرض دینے والے نے کہا کہ پہلے ایسے گواہ لاؤ جن کی گواہی پر مجھے اعتبار ہو۔ قرض مانگنے والے نے کہا کہ گواہ کی حیثیت سے تو بس اللہ تعالیٰ کافی ہے۔ پھر اس شخص نے کہا کہ اچھا کوئی ضامن (گارنٹی دینے والا) لے آؤ۔ قرض مانگنے والے نے کہا کہ ضامن کی حیثیت سے بھی بس اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے۔ قرض دینے والے نے کہا، تم نے سچی بات کہی اور وہ اللہ تعالیٰ کی گواہی اور ضمانت پر تیار ہوگیا۔ چناں چہ ایک متعین مدت کے لیے انہیں قرض دے دیا۔ یہ صاحب قرض لے کر دریائی سفر پر روانہ ہوئے اور پھر اپنی ضرورت پوری کرکے کسی سواری (کشتی وغیرہ) کی تلاش کی، تاکہ اس سے دریا پار کرکے اس متعین مدت تک قرض دینے والے کے پاس پہنچ سکیں جو اُن سے طے ہوئی تھی، اور اُن کا قرض ادا کردیں،لیکن کوئی سواری نہیں ملی۔ جب کوئی چارہ نہیں رہا، تو انہوں نے ایک لکڑی لی اور اس میں ایک سوراخ بنایا۔ پھر ایک ہزار دینار اور ایک خط (اس مضمون کا کہ) ان کی طرف سے قرض دینے والی کی طرف (یہ دینار بھیجے جارہے ہیں) رکھ دیا اور اس کا منھ بند کردیا اور اسے دریا پر لے کر آئے۔ پھر کہا، اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار دینار قرض لیے تھے، اس نے مجھ سے ضامن مانگا، تو میں نے کہا تھا کہ ضامن کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کافی ہے۔ وہ تجھ پر راضی تھا۔ اس نے مجھ سے گواہ مانگا، تو اس کاجواب بھی میں نے یہی دیا کہ اللہ تعالیٰ گواہ کی حیثیت سے کافی ہے، تو وہ تجھ پر راضی ہوگیا تھا اور (تو جانتا ہے کہ) میں نے بہت کوشش کی کہ کوئی سواری مل جائے جس کے ذریعے میں اس کا قرض معین مدت پر پہنچا سکوں، لیکن مجھے اس میں کامیابی نہیں ملی۔ اس لیے اب میں اس کو تیرے ہی سپرد کرتا ہوں (کہ تو اس تک پہنچادے)۔ چناں چہ اس نے وہ صندوق کی شکل میں لکڑی جس میں رقم تھی، دریا میں بہا دی، اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ اس امانت کو ضائع نہیں کرے گا۔ اب وہ دریا میں تھی اور وہ شحص واپس ہوچکا تھا۔ اگرچہ فکر اب بھی یہی تھی کہ کسی طرح کوئی جہاز ملے جس کے ذریعہ وہ اپنے شہر جاسکے۔ دوسری طرف وہ صاحب جنہوں نے قرض دیا تھا، اسی تلاش میں (بندرگاہ) آئے کہ ممکن ہے کوئی جہاز ان کا مال لے کر آیا ہو، لیکن وہاں انہیں ایک لکڑی ملی، وہی جس میں مال تھا جو قرض لینے والے نے ان کے نام بھیجا تھا۔ انہوں نے وہ لکڑی اپنے گھر کے ایندھن کے لیے لے لی۔ پھر جب اسے چیرا، تو اس میں سے دینار نکلے اور ایک خط بھی۔ (کچھ دنوں بعد) وہ صاحب جب اپنے وطن پہنچے، تو قرض خواہ کے یہاں آئے اور (دوبارہ) ایک ہزار دینار ان کی خدمت میں پیش کردیے اور کہا کہ بخدا میں تو برابر اسی کوشش میں رہا کہ کوئی جہاز ملے، تو تمہارے پاس تمہارا مال لے کر پہنچوں، لیکن مجھے اپنی کوششوں میں کوئی کامیابی نہیں ملی۔ پھر قرض خواہ نے پوچھا، اچھا یہ تو بتاؤ، کوئی چیز بھی میرے نام آپ نے بھیجی تھی؟ مقروض نے جواب دیا، بتا تو رہا ہوں کہ کوئی جہاز مجھے اس جہاز سے پہلے نہیں ملا جس سے میں آج پہنچا ہوں۔ اس پر قرض خواہ نے کہا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کا وہ قرض ادا کر دیا جسے آپ نے لکڑی میں بھیجا تھا۔ چناں چہ وہ صاحب اپنا ہزار دینار لے کر خوشی خوشی واپس ہوگئے۔ (بخاری، کتاب الکفالۃ، باب الکفالۃ فی القرض والدیون بالا بدان وغیرہا)
قرض لیتے اور دیتے وقت ان احکام کی پابندی کرنی چاہیے جو اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ کی آیت ۲۸۲ میں بیان کئے ہیں۔ یہ آیت قرآن کریم کی سب سے لمبی آیت ہے۔ اس آیت میں قرض کے احکام ذکر کیے گئے ہیں۔ ان احکام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بعد میں کسی طرح کا کوئی اختلاف پیدا نہ ہو۔ ان احکام میں سے ایک اہم حکم ’’قرض کی ادائیگی کی تاریخ بھی متعین کرلی جائے‘‘ ہے۔ قرض لینے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کرکے وقت پر قرض کی ادائیگی کرے۔ اگر متعین وقت پر قرض کی ادائیگی ممکن نہیں ہے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالی کا خوف رکھتے ہوئے قرض دینے والے سے قرض کی ادائیگی کی تاریخ سے مناسب وقت قبل مزید مہلت مانگے۔ مہلت دینے پر قرض دینے والے کو اللہ تعالیٰ اجرِعظیم عطا فرمائے گا، لیکن جو حضرات قرض کی ادائیگی پر قدرت رکھنے کے باوجود اس میں کوتاہی کرتے ہیں۔
ان کے لیے حضورِ اکرمؐ کے ارشادات میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ حتی کہ آپؐ ایسے شخص کی نمازِ جنازہ پڑھانے سے منع فرما دیتے تھے جس پر قرض ہو، یہاں تک کہ اس کا قرض ادا کردیا جائے۔

………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے