1,257 total views, 2 views today

اکیسویں صدی کے آغاز سے ہی سال کے اکثر ایام کو مختلف واقعات سے جوڑ کر عالمی سطح پر منایا جاتا ہے، جن میں سے بعض ایک تو عوام میں شعور اور احساس اجاگر کر دیتے ہیں جب کہ بہت سے ایام ایسے ہیں جو معاشرے کو تباہی کی طرح لے جا رہے ہیں۔ مغرب کے دیکھا دیکھی مشرقی اور اسلامی ممالک میں بھی ایسے ایام منائے جانے لگے جو سراسر اسلام سے متصادم ہیں۔ ایسے ہی دنوں میں سے ایک مخصوص عالمی دن ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ ہے جو ہر سال14 فروری کو کچھ مغربی اور سیکولر ملکوں میں سرکاری اور غیر سرکاری طور پر منایا جاتا ہے۔
قارئین، کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ویلنٹائن ڈے کیا ہے اور اس کی ابتدا کس طرح ہوئی؟ اس کے بارے میں کئی روایات ملتی ہیں تاہم ان میں یہ بات مشترک ہے: ویلنٹائن ڈے (جو 14فروری کو منایا جاتا ہے) محبوبوں کے لیے خاص دن ہے۔
اسے عاشقوں کے تہوار (لوورز فیسٹول) کے طور پر منایا جاتا ہے۔
دراصل تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائن نام کے ایک پادری تھے جو ایک راہبہ (نَن) کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوئے۔ چوں کہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لیے نکاح ممنوع تھا۔ اس لیے ایک دن ویلن ٹائن نے اپنی معشوقہ کی تشفی کے لیے اسے بتایا کہ اسے خواب میں بتایا گیا ہے کہ 14 فروری کا دن ایسا ہے کہ اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ صنفی ملاپ بھی کرلیں، تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائے گا۔ راہبہ نے اُس پر یقین کیا اور دونوں جوشِ عشق میں یہ سب کچھ کر گزرے۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اُڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو عموماً ہوا کرتا ہے، یعنی انہیں قتل کردیا گیا۔ بعد میں کچھ من چلوں نے ’’ویلن ٹائن صاحب‘‘ کو شہیدِ محبت کے درجہ پر فائز کرتے ہوئے اُس کی یاد میں دن منانا شروع کر دیا۔ چرچ نے ان خرافات کی ہمیشہ مذمت کی اور اسے جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائی پادریوں نے بھی اس دن کی مذمت میں سخت بیانات دیئے۔ بنکاک میں تو ایک عیسائی پادری نے بعض افراد کو لے کر ایک ایسی دکان کو نذرآتش کر دیا جس پر ویلنٹائن کارڈ فروخت ہورہے تھے۔
٭ سینٹ ویلنٹائن کون تھا؟
سینٹ ویلنٹائن ایک عیسائی راہب تھا۔ اس سے بھی ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے کچھ باتیں جڑی ہیں۔ اسے عاشقوں کے تہوار کے طور پر کیوں منایا جاتا ہے اور سینٹ ویلنٹائن سے اس کی کیا نسبت بنتی ہے؟ اس کے بارے میں بک آف نالج کا مذکورہ اقتباس لائقِ توجہ ہے:
’’ویلنٹائن ڈے کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ اس کا آغاز ایک رومی تہوار ’’لوپر کالیا‘‘ کی صورت میں ہوا۔ قدیم رومی مرد اس تہوار کے موقع پر اپنی دوست لڑکیوں کے نام اپنی قمیصوں کی آستینوں پر لگا کر چلتے تھے۔ بعض اوقات یہ جوڑے تحائف کا تبادلہ بھی کرتے تھے۔ بعد میں جب اس تہوار کو’’سینٹ ویلن ٹائن‘‘ کے نام سے منایا جانے لگا، تو اس کی بعض روایات کو برقرار رکھا گیا۔ اسے ہر اس فرد کے لیے اہم دن سمجھا جانے لگا جو رفیق یا رفیقۂ حیات کی تلاش میں تھا۔ سترہویں صدی کی ایک پراُمید دوشیزہ سے یہ بات منسوب ہے کہ اس نے ویلن ٹائن ڈے والی شام کو سونے سے پہلے اپنے تکیہ کے ساتھ پانچ پتے ٹانکے۔ اس کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے وہ خواب میں اپنے ہونے والے خاوند کو دیکھ سکے گی۔ بعد ازاں لوگوں نے تحائف کی جگہ ویلنٹائن کارڈز کا سلسلہ شروع کردیا۔




سینٹ ویلنٹائن ایک عیسائی راہب تھا۔ (Photo: The Apopka Voice)

اسلام میں غیرمردوں اور غیر عورتوں کا ایک دوسروں سے ملنا اور اظہارِمحبت کرنا منع ہے۔ اسی طرح چرچ نے ان خرافات کی ہمیشہ مذمت کی اور اسے جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا۔
بھارت کی ہندو انتہا پسند تنظیم ’’بجرنگ دل‘‘ نے ویلنٹائن ڈے منانے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے انھیں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہنے کا مشورہ دیتی ہے۔ایک اور انتہا پسند تنظیم ’’ہندو مہاسبھا‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کھلے عام ’’آئی لو یو‘‘ کہنے والے جوڑوں کی زبردستی شادی کروائے گی۔ کچھ اسلامی ممالک میں اس دن اس رسم کے خلاف مہم بھی چلائی جاتی ہے۔
پاکستان میں گذشتہ دو تین سالوں سے اس دن کے جشن منانے کا جذبہ نوجوانوں میں جوش پکڑتا جا رہا ہے۔ حالاں کہ یہاں کا ماحول یورپ جتنا سازگار نہیں ہے اور آبادی کا معتدبہٖ حصہ اس دن کی تقاریب کو قبیح مانتا ہے۔ یہاں پر ویلنٹائن ڈے کا تصور نوے کی دہائی کے آخر میں ریڈیو اور ٹی وی کی خصوصی نشریات کی وجہ سے مقبول ہوا۔ شہری علاقوں میں اسے جوش وخروش سے منایا جاتا ہے۔ پھولوں کی فروخت میں کئی سو گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہی حال کارڈز کی فروخت کا ہوتا ہے۔
بحیثیت مسلمان ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم نہ صرف اس دن کو منانے کا بائیکاٹ کریں بلکہ اس کے خلاف بھر پور تحریک چلائیں۔ اپنی نوجوان نسل کو ایسے قبیح اور غیر شرعی کاموں سے روکیں۔ اگر آج ہم نے ویلنٹائن جیسے تہواروں کا راستہ نہ روکا، تو بے حیائی کا طوفان ہمارے گھروں میں داخل ہوکر سب کچھ بہا لے جائے گا۔

………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے