1,118 total views, 2 views today

قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے: ’’افلاس کی وجہ سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، ہم تم کو بھی رزق دیں گے اور ان کو بھی۔‘‘ (سورۃ الانعام)
جاہلیت کے زمانہ میں بے رحمی اور سنگدلی کی یہ بدترین رسم چل پڑی تھی کہ جس گھر میں لڑکی پیدا ہوتی، تو اُس کو اِس عار سے کہ کسی کو داماد بنانا پڑے گا، زندہ گڑھے میں دفن کر دیا جاتا۔ بعض اوقات اس خوف سے کہ اولاد کے لیے ضروریاتِ زندگی اور کھانے پینے کا سامان جمع کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی، یہ سنگ دل لوگ اپنے بچوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کردیتے تھے۔ قرآنِ کریم نے اس رسم کو مٹا دیا۔
قتلِ اولاد کا جرم اور سخت گناہ ہونا جو آیت میں بیان فرمایا گیا ہے، وہ ظاہری قتل کرنے اور مار ڈالنے کے لیے تو ہے ہی لیکن اگر غور کیا جائے، تو اولاد کو تعلیم و تربیت نہ دینا جس کے نتیجہ میں خدا اور رسولؐ اور آخرت کی فکر سے غافل رہے، بداخلاقیوں اور بے حیائیوں میں گرفتار ہو، یہ بھی قتلِ اولاد سے کم نہیں۔ جو لوگ اپنی اولاد کے اعمال و اخلاق کو درست کرنے پر توجہ نہیں دیتے، ان کو آزاد چھوڑتے ہیں، وہ بھی ایک حیثیت سے قتل اولاد کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ظاہری قتل کا اثر صرف دنیا کی چند روزہ زندگی پر پڑتا ہے جبکہ دوسری قسم کا قتل انسان کی اخروی اور دائمی زندگی کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا ہے۔
ایک اور جگہ ارشادِ ربانی ہے: ’’اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس نماز کی پابندی کرو۔‘‘ والدین پر بچوں کی تربیت لازم ہے۔ بچے جو بھی تربیت حاصل کرتے ہیں، وہ گھر میں اپنے ماں باپ ہی سے حاصل کرتے ہیں۔ اگر ماں باپ بچوں کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں، تو بچے بھی جھوٹ بولنا سیکھ لیتے ہیں۔ اگر ماں باپ گھر میں گالیاں دیتے ہیں، تو بچے بھی گالیاں دینے کے عادی بن جاتے ہیں۔ اگر ماں باپ کسی کام میں دھوکا کرتے ہیں، تو بچے بھی دھوکا کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضور اقدسؐ کے سامنے ایک خاتون نے اپنے بچے کو گود میں لینے کے لیے بلایا۔ بچہ آنے میں تر دد کر رہا تھا، تو اس خاتون نے کہا تم ہمارے پاس آؤ۔ ہم تمہیں کچھ چیز دیں گے۔ اب وہ بچہ آگیا۔ آنحضرتؐ نے اس خاتون سے پوچھا کہ تم نے بچے کو یہ جو کہا کہ ہمارے پاس آؤ، ہم تمہیں کچھ چیز دیں گے، تو کیا تمہاری واقعی کچھ دینے کی نیت تھی؟ خاتون نے جواب دیا کہ میرے پاس ایک کھجور تھی اور یہ کھجور اس کو دینے کی نیت تھی۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر دینے کی نیت نہ ہوتی، تو یہ تمہاری طرف سے بہت بڑا جھوٹ ہوتا اور گناہ ہوتا۔ اس لیے کہ تم بچے سے جھوٹا وعدہ کررہی تھی، گویا اس کے دل میں بچپن سے یہ بات ڈال رہے تھی کہ جھوٹ بولنا اور وعدہ خلافی کرنا کوئی ایسی بری بات نہیں ہوتی۔
قارئین، اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ فرما دیا گیا کہ بچے کی تربیت چھوٹی چھوٹی چیزوں سے شروع ہوتی ہے۔ اسی سے اس کا ذہن اور زندگی بنتی ہے۔




والدین پر بچوں کی تربیت لازم ہے۔ بچے جو بھی تربیت حاصل کرتے ہیں، وہ گھر میں اپنے ماں باپ ہی سے حاصل کرتے ہیں۔ اگر ماں باپ بچوں کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں، تو بچے بھی جھوٹ بولنا سیکھ لیتے ہیں۔ اگر ماں باپ گھر میں گالیاں دیتے ہیں، تو بچے بھی گالیاں دینے کے عادی بن جاتے ہیں۔ اگر ماں باپ کسی کام میں دھوکا کرتے ہیں، تو بچے بھی دھوکا کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ (Photo: islamicevents.sg)

حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن ؓ جب کہ ابھی بچے ہی تھے۔ ایک مرتبہ صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اُٹھا کر اپنے منھ میں رکھ لی۔ جب حضورؐ نے دیکھا، تو فوراً فرمایا: ’’تھو تھو‘‘ یعنی اس کو منھ سے نکال کر پھینک دو۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم بنو ہاشم صدقے کا مال نہیں کھاتے۔
حضرت عمر بن ابو سلمہؓ فرماتے ہیں کہ جس وقت میں چھوٹا بچہ تھا اور حضورؐ کی زیرِ پرورش تھا۔ ایک روزکھانا کھاتے ہوئے میرا ہاتھ پیالے میں اِدھر اُدھر حرکت کر رہا تھا۔ کبھی ایک طرف سے لقمہ اٹھایا، کبھی دوسری طرف سے۔ جب حضورؐ نے مجھے اس طرح کرتے ہوئے دیکھا، تو فرمایا: اے لڑکے کھانا کھاتے وقت بسم اللہ پڑھو اور داہنے ہاتھ سے کھاؤ اور برتن کا جو حصہ تمہارے سامنے ہے، وہاں سے کھاؤ۔ ادھر ادھر سے ہاتھ بڑھا کر کھانا ٹھیک نہیں ہے۔ حضورؐ اس طرح کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو دیکھ کر اس پر تنبیہ فرماتے اور صحیح ادب سکھاتے۔
حضرت عبداللہ ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو، جب وہ سات سال کے ہوجائیں اور جب دس سال کی عمر ہوجائے اور پھر نماز نہ پڑھے، تو اس کو نماز نہ پڑھنے پر مارو، اور دس سال کی عمر میں بچوں کے بستر الگ الگ کردو۔ ایک بستر میں دو بچوں کو نہ سلاؤ۔
حدیث شریف میں اس طرف اشارہ ہے کہ جب بچہ سات سال سے کم ہو، تو اس کو گھر کی تعلیم دے دو۔ اس کو اللہ اور رسول کا کلمہ سکھادو۔ اس کو کچھ دین کی باتیں سمجھا دو۔ جب بچہ سات سال کا ہوجائے، تو پھر رفتہ رفتہ اس پر تعلیم کا بوجھ ڈالا جائے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل زندگیاں مصروف ہوگئی ہیں۔ اوقات محدود ہوگئے ہیں، لیکن ہر شخص اتنا تو کرسکتا ہے کہ چوبیس گھنٹے میں سے پانچ دس منٹ روزانہ اس کام کے لیے نکال لے کہ اپنے بچوں کو دین کی بات سنائے۔ کوئی کتاب پڑھ کر سنائے، کوئی وعظ پڑھ کر سنائے۔ اس لیے کہ ان بچوں کے بارے میں ماں باپ سے پوچھا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ اپنی اولاد کو اچھے اداب سکھانا، ایک صاع (پیمانہ) صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔
بچوں کو مارنا جائز ہے یا نہیں؟ اس پر اگلی نشسٹ میں تفصیلی بحث کی جائے گی۔

…………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے