548 total views, 1 views today

اس رحمتِ عالمؐ کا قصیدہ کہوں کیسے؟
جو بحرِ عنایات بھی ہیں ابرِ کرم بھی
بیتے لمحوں کے سنگ جب یادیں ایام ماضی میں جھانکتی ہیں، تو مجھے صرف ایک ہی دور کی سین صاف دکھائی دیتی ہے۔ مجھے اَن چھوئی احساسات کی ایک لہر اپنی مٹھی میں لے کر اُس تابناک دور کی سیر کراتی ہے جہاں ہر سُو امن تھا، سکون تھا، آشتی تھی۔ یہ لہر مجھے بتاتی ہے کہ یہ پیغمبر اسلامؐ کا درخشاں دور ہے۔ یہ جاں نثار صحابہ کی داستانِ حیات ہے۔ یہ کبار اور صغار کی محبتوں، شفقتوں اور لازوال قربانیوں کی حکایت ہے۔ یہاں وہ سب کچھ ہے جس کی ایک بے مایہ انسان کو ازحد ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں کے رتجگے، آہ وسوز کی دل فگار آوازیں من کی مردہ سوتوں کو جلا بخشتی ہیں۔ احساس کی ڈگڈگی پہ سوار میں گرتے پڑتے، روتے بسورتے ایک کچی سی عمارت کے پاس جاکے رکتا ہوں۔ میرے کاندھے پہ اپنے گناہوں کے بار ہیں جس کی وجہ سے میری کمر دہری ہو رہی ہے۔ میں ندامت کے پسینے میں غرق سر تا پا ملامت بن کر کھڑا ہوں۔ مجھ میں دستک دینے کی طاقت نہیں۔ آواز نکالنے کی سکت نہیں۔ قدم اٹھانے کی ہمت نہیں۔ یکایک مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ایک روئی جیسا نرم ہاتھ میرے شانوں کو چھو رہا ہے۔ میں احساس کی دنیا میں خود کو دربارِ نبوتؐ میں پاتا ہوں۔ میں سر اٹھانے کے قابل کہاں؟ پلک جھپکانا تک بھول گیا ہوں۔ دل ہے کہ آج اسے دھڑکنا ہی ہے۔ اعصاب ہیں کہ آج انہیں گھبراہٹ اور خوشی کے ملے جلے احساسات نے دیوانہ بنا دیا ہے۔ شفقتوں اور احسانات کے دریا میں، مَیں ڈوبتا جا رہا ہوں۔
خواب وخیال کے سحر نے مجھے ایک ایسے جہاں کی سیر میں چھوڑ دیا ہے جہاں سے پلٹنا میرے لیے سوہانِ روح ہے۔ میں ایک حسن مجسم کو ٹکٹکی باندھ کے تک رہا ہوں۔ ایک معصوم زبان کو موتیاں بکھرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ گیسوؤں کے بکھر ے ہوئے سائے میں دنیا کی تمام راحتیں پا رہا ہوں۔ یاقوت کی وادی میں دمکتے ہوئے ہیروں کی طرح ان پیارے دانتوں کا مشاہدہ بھی اس وقت ہوتا ہے جب آقائے دو جہاں مسکراتے ہیں
یہ موج تبسم ہے کہ رنگوں کی دھنک ہے
یہ عکس متانت ہے کہ ٹھہرا ہوا موسم
یہ شکر کے سجدے ہیں کہ آیات کی تنزیل
یہ آنکھ کے آنسو ہیں کہ الہام کی رم جھم
کیف وسرور کی اس دنیا میں مست تھا کہ یکایک مجھے ایک بار پھر اپنے کرتوت یاد آگئے۔ میں سہم گیا اور چھوئی موئی کی طرح سمٹ گیا۔ احساسِ ملامت نے مجھے ایسے دبائے رکھا کہ سر اٹھانا مشکل ہو رہا تھا۔ پھر مجھے علامہ اقبال ؒکا ایک واقعہ یاد آیا۔ رمضان عطائی ایک شاعر گزرا ہے۔ علامہ اقبال نے جب اپنا ایک مشہور قطعہ اپنی کتاب میں شائع کیا، تو رمضان عطائی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔ علامہ نے پوچھا رمضان کیا بات ہے، کیوں رو رہے ہو؟ عرض کیا، آپ سے نیاز مندی کی امیدیں وابستہ ہیں ایک عرضی لے کے آیا ہوں۔ علامہ نے کہا کیا عرضی؟ کہنے لگا، آپ نے جو رباعی اپنی کتاب میں شامل کی ہے، میں اس کا خواستگار ہوں۔ آپ اس رباعی کے بدلے میرا سارا دیوان لے لیجئے۔ وہ رباعی کیا تھی؟ ذرا ایک عاشق رسولؐ کی زبانی آپ بھی سنیے کہ کس قدر انہیں حضور کے سامنے شرمندہ ہونے کا احساس ہے اور اسی احساس نے ان سے یہ اشعار نکلوائے ہیں:
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم راتو بینی ناگزیر
ازنگاہ مصطفی پنہاں بگیر
(اے اﷲ! تو دونوں جہاں سے مستغنی ذات ہے، میں ایک محتاج بندہ ہوں۔ قیامت کے دن میرے عذر قبول فرما اور مجھے بخش دے۔ یارب! اگر میرا محاسبہ بہت ہی ضروری ہو، تو اپنے حبیبؐ کی آنکھوں سے میرا حساب پوشیدہ رکھ۔ مجھے ان کے سامنے رسوامت کیجئے!)
علامہ نے فرمایا: رمضان! شاعری کسی کی میراث نہیں۔ جا، یہ رباعی میں نے تمہیں دے دی۔ اور علامہ نے ان اشعار کو اپنی کتاب سے نکال دیا۔ بعد میں رمضان نے یہی اشعار اپنی قبر پر کندہ کرانے کی وصیت کی۔
حضور کی آنکھوں کا سامنا کرنے کی ہمت ہم میں کہاں؟ آپ کے حسن وجمال کے تذکروں سے دل کو سرور اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے رہیں گے۔ آپ کی سیرت کے کس کس پہلو کو یاد کریں، کون کون سے ارشاد کو حرزِ جاں بنالیں۔ آپ کی تو زندگی ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کی باتیں، آپ کی محفل اور آپ کی شخصیت ایک پیکر کامل ایک ماہِ تمام ایک نور مجسم۔
سر چشمہ کوثر تیرے سینے کا پسینہ
سایہ تیری دیوار کا معیار ِ ارم ہے
ذرے تیرے ماہ وانجم افلاک
سورج تیرے راہوار کا اک نقش قدم ہے
کس رنگ سے ترتیب تجھے دیجیے آقا
تنویر کہ تصویر تصوّر کہ مصوّر
کس نام سے امداد طلب کیجیے تجھ سے
یس کہ طہ، مزمل کہ مدثر
اے شاکر ومشکور وشکیل شبِ عالم
اے نا صر ومنصور و نصیرِ دل انساں
اے شاہد ومشہود و شہید رخ تو حید
اے ناظر ومنظور کونظیر لبِ یزداں
نہ ذہن میں آئے کہ تو اتراتھا کہاں سے
کیا کوئی بتائے تیری سرحد ہے کہاں تک؟
پہنچی ہے جہاں تک تیری نعلین کی مٹی
خاکسترِ جبریل بھی پہنچے نہ وہاں تک !!
بس ایک بے کل کر دینے والا احساس ساتھ لگا رہتاہے کہ کہیں ہم قیامت کے دن حضور کے سامنے اس حالت میں پیش نہ ہوں کہ گناہ ہماری آنکھوں اور دوسرے تمام اعضاء سے ٹپک رہے ہوں۔ اگر خدا نخواستہ ایسا ہوگیا، تو کیا اس سے بڑھ کر ڈوب مرنے کا کوئی مقام ہوگا؟

………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے