1,093 total views, 2 views today

داڑھی اہلِ اسلام کے مذہبی شعار میں داخل ہے اور یہودیوں اور رومن کتھولک عیسائیوں میں بھی اس کو عزت کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کو مصر میں غلامی کی زندگی کے دوران میں داڑھی منڈانے کی اجازت نہ تھی۔ اس لیے وہ اپنی داڑھیوں کو لمبا چھوڑ دیا کرتے تھے اور اسی نشانی سے ان میں اور مصریوں میں تمیز ہوتی تھی۔ کیوں کہ مصری داڑھی منڈوایا کرتے تھے۔ صدیوں قدیم اس رواج کے باعث داڑھی عزت کی نشانی بن گئی۔ سکندر اعظم نے اپنی فوج میں داڑھی رکھنا ممنوع قرار دے دیا تھا۔ اسلام میں بھی جہاں ایک طرف داڑھی ایک مذہبی شعار سمجھا جاتا ہے، وہیں جنگ کے زمانے میں اس کا منڈانا جائز سمجھا گیا ہے۔
مسلم دنیا میں صرف طالبان کی حکومت ایسی گزری ہے جس نے افغانستان میں داڑھی منڈوانا ایک جرم قرار دیا اور داڑھی نہ رکھنے والوں کو باقاعدہ سزا دی جاتی تھی۔ روس میں پیٹر اعظم کے وقت اور انگلستان میں اس سے کچھ عرصہ پیشتر داڑھی والوں پر ایک ٹیکس لگایا جاتا تھا اور داڑھی رکھنا صرف شاہی اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ انگلستان کے تمام بادشاہ داڑھی رکھتے تھے۔ ایڈورڈ ہشتم نے اس رسم کو خیرباد کہہ دیا اور اس کے جانشین بھائی نے بھی اس کی تقلید کی۔ چین، جاپان، کوریا، ملایا، ہند چینی، برما، تبت، نیپال اور وہ تمام علاقہ جس میں منگول نسل کے لوگ بستے ہیں، وہ قدرتی طورپر داڑھی سے محروم ہیں۔ چنانچہ وہاں داڑھی کی بحث پیدا نہیں ہوتی۔




روس میں پیٹر اعظم کے وقت اور انگلستان میں اس سے کچھ عرصہ پیشتر داڑھی والوں پر ایک ٹیکس لگایا جاتا تھا اور داڑھی رکھنا صرف شاہی اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ (Photo: NordStierna International)

اسلام میں مردوں کے لئے داڑھی رکھنا واجب ہے۔ اس کی شرعی مقدار ایک مشت ہے اور داڑھی رکھنا اسلامی اور مذہبی شعار ہے۔ یہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی متفقہ سنت ہے۔ اسی سے مردانہ شکل وصورت کی تکمیل ہوتی ہے۔ آنحضرت ؐکا دائمی عمل ہے اور حضور ؐنے اسے فطرت سے تعبیر فرمایا ہے۔ لہٰذا اسلام میں داڑھی رکھنا ضروری ہے اور منڈوانا یا ایک مٹھی سے پہلے کترانا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ جو لوگ ایک مٹھی سے کم داڑھی کو جائز قرار دیتے ہیں، ان کی دلائل نہایت کمزور اور بودی ہیں۔
حدیث شریف میں حضرت عائشہ، آنحضرتؐ کا ارشاد مبارک نقل فرماتی ہیں:’’عشر من الفطرۃ قص الشارب واعفاء اللحیۃ الخ۔‘‘ یعنی دس چیزیں فطرت میں سے ہیں: ٭ مونچھوں کا کتروانا۔٭داڑھی بڑھانا۔ ٭مسواک کرنا۔ ٭ ناک میں پانی ڈال کر اسے صاف کرنا۔ ٭ ناخن تراشنا۔ 6 بدن کے جوڑوں کو دھونا۔ ٭ بغل کے بال اکھاڑنا۔ ٭ زیرِ ناف بال صاف کرنا۔ ٭ پانی سے استنجا کرنا، راوی کو دسویں چیز یاد نہ رہی۔ فرماتے ہیں:ممکن ہے کہ کلی کرنا ہو۔‘‘ اس حدیث میں جوکہ سنداً نہایت قوی حدیث ہے، دس چیزوں کو جن میں سے داڑھی کا بڑھانا اور مونچھوں کا کتروانا بھی فطرت بتلایاگیا ہے اور فطرت عرف شرع میں ان امور کو کہا جاتاہے جوکہ تمام انبیا اور رسل کی معمول بہ اور متفق علیہ سنت ہو اور امت کو ان پر عمل کرنے کا حکم ہو۔

دوسری جگہ ارشاد نبوی ہے: عن ابن عمر قال قال النبی ا خالفوا المشرکین اوفروا اللحی واحفوا الشوارب وفی روایۃانہکوا الشوارب واعفوا اللحی متفق علیہ۔ ’’یعنی مشرکین کی مخالفت کرو، مونچھیں پست کرو (چھوٹی کرو) اور داڑھی کو معاف رکھو (یعنی اسے نہ کاٹو)۔‘‘ امام نوویؒ شرح مسلم میں فرماتے ہیں: قالواومعناہ انہا من سنن الانبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیہم۔یعنی فطرت کے معنی یہ ہے کہ وہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی سنتوں میں سے ہے۔
اس حدیث شریف سے صاف ظاہر ہوگیا کہ داڑھی بڑھانے کا حکم تمام شریعتوں میں تھا اور یہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت رہی ہے۔
امام ابوحنیفہ کی کتاب الآثار میں ہے: محمد قال اخبرنا ابوحنیفۃ رحمہ اللہ عن الہیثم عن ابن عمر انہ کان یقبض علی اللحیۃ ثم یقص ما تحت القبضۃ قال محمد وبہ ناخذ وہو قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ: (ترجمہ) امام محمد ابوحنیفہ سے وہ حضرت ہیثم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر داڑھی کو مٹھی میں پکڑ کرمٹھی سے زائد حصہ کو کاٹ دیا کرتے تھے۔ امام محمد فرماتے ہیں کہ ہمارا عمل اسی حدیث پر ہے اور حضرت امام اعظم نے بھی یہی فرمایا ہے۔
فقہ مالکی کے مشہور فقیہ علامہ محمد بن محمد غیثنی مالکی المنح الوفیہ شرح مقدمہ العزیۃ میں فرماتے ہیں: ان ترک الاخذ من اللحیۃ من الفطرۃ وامر فی الارسال بان تعفی ای تترک ولاحرج علی من طالت لحیتہ بان یأخذ منہا اذا زادت علی القبضۃ (ترجمہ) داڑھی رکھنا فطرت میں سے ہے اور چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے کہ بڑھائی جائے، لیکن جس شخص کی داڑھی ایک قبضہ سے لمبی ہوجائے، تو ایسے شخص کو قبضہ سے زائد حصہ کو کتروا ڈالنے میں کوئی حرج نہیں۔
مشہور شافعی فقیہ اور محدث امام نووی حدیث خصال فطرت کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں: المختار ترکہا علی حالہا وان لایتعرض لہا بتقصیر ولاغیرہ:(ترجمہ) مذہب مختاریہ ہے کہ داڑھی کو بالکل چھوڑ دیا جائے اور اس کے ساتھ کترنے اور منڈوانے کا تعرض بالکل نہ کیا جائے۔
فقہ حنبلی کی مشہور کتاب کشاف القناع شرح متن الاقناع میں ہے: واعفاء اللحیۃبان لایاخذ منہا شیأ مالم یستہجن طولہا ویحرم حلقہا ولایکرہ اخذ ما زاد علی القبضۃ: (ترجمہ) اور حضورکی سنت داڑھی کو چھوڑ دینا ہے۔ اس طرح کہ اس میں سے کچھ بھی نہ تراشے جب تک کہ وہ لمبی ہوکر بڑی نہ لگنے لگے اور اس کا منڈانا تو بالکل حرام ہے۔ البتہ قبضہ سے زیادہ حصہ کا تراشنا مکروہ نہیں۔
مذکورہ تمام احادیث اور فقہائے کرام کے اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ داڑھی رکھنا واجب ہے اور ایک مشت یعنی قبضہ سے کم کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ اب جو لوگ داڑھی کے خلاف زبان درازی کرتے ہیں اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں تو وہ اپنے ایمان کی فکر کریں اور تجدید ایمان کریں۔

………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے